hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32499

.

ابن أبي شيبة

32499
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۵۰۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ، عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ حِینَ أَسْرَی بِبَنِی إسْرَائِیلَ بَلَغَ فِرْعَوْنَ، فَأَمَرَ بِشَاۃٍ فَذُبِحَتْ، ثُمَّ قَالَ: لاَ وَاللہِ لاَ یُفْرَغُ مِنْ سَلْخِہَا حَتَّی یَجْتَمِعَ إلَیَّ سِتُّمِئَۃِ أَلْفٍ مِنَ الْقِبْطِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَتَّی انْتَہَی إلَی الْبَحْرِ، فَقَالَ لَہُ: اُفْرُقْ، فَقَالَ: الْبَحْرُ: لَقَدَ اسْتَکْبَرْت یَا مُوسَی، وَہَلَ فَرَقْت لأَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ فَأَفْرُقَ لَک؟ قَالَ: وَمَعَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ رَجُلٌ عَلَی حِصَانٍ لَہُ ، فَقَالَ لَہُ ذَاکَ الرَّجُلُ : أَیْنَ أُمِرْت یَا نَبِیَّ اللہِ ؟ قَالَ : مَا أُمِرْت إلاَّ بِہَذَا الْوَجْہِ ، قَالَ : فَأَقْحَمَ فَرَسَہُ فَسَبَحَ بِہِ فَخَرَجَ ، فَقَالَ : أَیْنَ أُمِرْت یَا نَبِیَّ اللہِ ؟ قَالَ : مَا أُمِرْت إلاَّ بِہَذَا الْوَجْہِ ، قَالَ : وَاللہِ مَا کَذَبْت ، وَلاَ کُذِّبْت ، قَالَ : ثُمَّ اقْتَحَمَ الثَّانِیَۃَ فَسَبَحَ بِہِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ: أَیْنَ أُمِرْت یَا نَبِیَّ اللہِ ؟ قَالَ : مَا أُمِرْت إلاَّ بِہَذَا الْوَجْہِ ، قَالَ : وَاللہِ مَا کَذَبْت ، وَلاَ کُذِّبْت ، قَالَ : فَأَوْحَی اللَّہُ إلَی مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ : {أَنَ اضْرِبْ بِعَصَاک} فَضَرَبَ مُوسَی بِعَصَاہُ {فَانْفَلَقَ ، فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیمِ} کَالْجَبَلِ الْعَظِیمِ ، فَکَانَ فِیہِ اثْنَا عَشَرَ طَرِیقًا لاِثْنَیْ عَشَرَ سِبْطًا ، لِکُلِّ سِبْطٍ طَرِیقٌ یَتَرَائَوْنَ ، فَلَمَّا خَرَجَ أَصْحَابُ مُوسَی وَتَتَامَّ أَصْحَابُ فِرْعَوْنَ الْتَقَی الْبَحْرُ عَلَیْہِمْ فَأَغْرَقَہُمْ۔
(٣٢٥٠٠) عمرو بن میمون حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر چلے تو فرعون کا لشکر پہنچ گیا، آپ نے ایک بکری کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ قبطی میرے پاس جمع ہوجائیں، چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر چلے یہاں تک کہ سمندر تک پہنچ گئے تو اس سے فرمایا پھٹ جا، سمندر نے کہا اے موسیٰ ! تم تکبر کرتے پھرتے ہو ، کیا میں اولادِ آدم میں کسی کے لیے پھٹا ہوں کہ تمہارے لیے پھٹ جاؤں ؟
کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایک آدمی گھوڑے پر سوار تھا، اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کو کس طرف آنے کا حکم ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، چنانچہ اس نے اپنے گھوڑے کو سمندر میں ڈالا اور اس پر تیرنے لگا پھر نکلا اور کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کو کہاں جانے کا حکم ہوا ہے ؟ ّ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، اس نے کہا بخدا نہ آپ نے جھوٹ بولا اور نہ آپ کی تکذیب کی گئی، اس کے بعد اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، آپ نے اس پر لاٹھی ماری تو وہ پھٹ گیا اور ہر راستہ بڑے ٹیلے کی طرح ہوگیا ، چنانچہ اس میں بارہ قبیلوں کے لیے بارہ راستے بن گئے، اور ہر قبیلے کا راستہ جدا تھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نکل گئے اور فرعون کے ساتھی سب کے سب سمندر میں پہنچ گئے تو سمندر ان پر مل گیا اور وہ سب ڈوب گئے۔