hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32501

.

ابن أبي شيبة

32501
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۵۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ: انْطَلَقَ مُوسَی وَہَارُونُ علیہما السلام وَانْطَلَقَ شَبَّر وَشَبِیر، فَانْتَہَوْا إلَی جَبَلٍ فِیہِ سَرِیرٌ فَنَامَ عَلَیْہِ ہَارُونُ فَقُبِضَ رُوحُہُ ، فَرَجَعَ مُوسَی إلَی قَوْمِہِ ، فَقَالُوا : أَنْتَ قَتَلْتہ ، حَسَدْتَنَا عَلَی خُلُقِہِ ، أَوْ عَلَی لِینِہِ ، أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا - الشَّکُّ مِنْ سُفْیَانَ - ، قَالَ : کَیْفَ أَقْتُلُہُ وَمَعِی ابْنَاہُ ؟ قَالَ : فَاخْتَارُوا من شئتم ، قَالَ: فَاخْتَارُوا مِنْ کُلِّ سِبْطٍ عَشْرَۃً ، قَالَ : وَذَلِکَ قَوْلُہُ : {وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلاً} فَانْتَہَوْا إلَیْہِ فَقَالُوا : مَنْ قَتَلَک یَا ہَارُونُ ، قَالَ : مَا قَتَلَنِی أَحَد ، وَلَکِنْ تَوَفَّانِی اللَّہُ ، قَالُوا : یَا مُوسَی مَا تُعْصَی بَعْدُ، قَالَ: فَأَخَذَتْہُمَ الرَّجْفَۃُ، فَجَعَلَ یَتَرَدَّدُ یَمِینًا وَشِمَالاً وَیَقُولُ : {لَوْ شِئْت أہْلَکْتَہُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ أَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَائُ مِنَّا إنْ ہِیَ إلاَّ فِتْنَتُک} قَالَ : فَدَعَا اللَّہَ فَأَحْیَاہُمْ وَجَعَلَہُمْ أَنْبِیَائَ کُلَّہُمْ۔ (ابن جریر ۷۳)
(٣٢٥٠٢) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) اور شبر اور شبیر چلے اور ایک پہاڑ تک پہنچے جس میں ایک بستر تھا چنانچہ ہارون (علیہ السلام) اس پر سو گئے، اور ان کی روح قبض ہوگئی، چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے پاس واپس آئے، تو ان کی قوم کہنے لگی کہ ان کو آپ نے قتل کیا ہے، اور ان کے اخلاق کی وجہ سے آپ کو ہم پر حسد ہوا ہے، یا کہا کہ ان کی نرمی پر، یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا، شک سفیان راوی کی طرف سے ہے، آپ نے فرمایا کہ میں ان کو کیسے قتل کرسکتا ہوں جب کہ میرے ساتھ ان کے بیٹے ہیں پھر آپ نے فرمایا کہ جن کو چاہو چن لو، چنانچہ انھوں نے ہر قبیلے سے دس افراد چنے، یہی معنی ہے اللہ کے فرمان { وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلاً } کا ، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو ان سے پوچھا اے ہارون ! آپ کو کس نے قتل کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ مجھے اللہ نے وفات دی ، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! آج کے بعد ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے، چنانچہ ایک زلزلہ آیا اور وہ ہلاک ہوگئے، اور دائیں بائیں پریشان پھرنے لگے اور عرض کی { لَوْ شِئْت أہْلَکْتَہُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ أَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَائُ مِنَّا إنْ ہِیَ إلاَّ فِتْنَتُک } اس کے بعد انھوں نے دعا کی تو اللہ نے ان کو زندہ کردیا اور ان سب کو انبیاء بنادیا۔