hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32502

.

ابن أبي شيبة

32502
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۵۰۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الأَوْدِیِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ لَمَّا وَرَدَ مَائَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْہِ أُمَّۃً مِنَ النَّاسِ یَسْقُونَ ، فَلَمَّا فَرَغُوا أَعَادُوا الصَّخْرَۃَ عَلَی الْبِئْرِ ، وَلاَ یُطِیقُ رَفْعَہَا إلاَّ عَشْرَۃُ رِجَالٍ ، فَإِذَا ہُوَ بِامْرَأَتَیْنِ تَذُودَانِ ، قَالَ : مَا خَطْبُکُمَا فَحَدَّثَتَاہُ فَأَتَی الْحَجَرَ فَرَفَعَہُ ، ثُمَّ لَمْ یَسْتَقِ إلاَّ ذَنُوبًا وَاحِدًا حَتَّی رُوِیَتِ الْغَنَمُ وَرَجَعَتِ الْمَرْأَتَانِ إلَی أَبِیہِمَا فَحَدَّثَتَاہُ ، وَتَوَلَّی مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ إلَی الظِّلِّ ، فَقَالَ : {رَبِّ إنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ}۔ قَالَ : {فَجَائَتْہُ إحْدَاہُمَا تَمْشِی عَلَی اسْتِحْیَائٍ} وَاضِعَۃً ثَوْبَہَا عَلَی وَجْہِہَا ، {قَالَتْ إنَّ أَبِی یَدْعُوک لِیَجْزِیَک أَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا} قَالَ لَہَا : امْشِی خَلْفِی وَصِفِی لِی الطَّرِیقَ ، فَإِنِّی أَکْرَہُ أَنْ تُصِیبَ الرِّیحُ ثَوْبَک فَیَصِفَ لِی جَسَدَک ، فَلَمَّا انْتَہَی إلَی أَبِیہَا قَصَّ عَلَیْہِ ، قَالَتْ إحْدَاہُمَا : {یَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْہُ إنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الأَمِینُ} قَالَ : یَا بُنَیَّۃُ ، مَا عِلْمُک بِأَمَانَتِہِ وَقُوَّتِہِ ، قَالَتْ : أَمَّا قُوَّتُہُ فَرَفْعُہُ الْحَجَرَ ، وَلاَ یُطِیقُہُ إلاَّ عَشْرَۃٌ ، وَأَمَّا أَمَانَتُہُ ، فَقَالَ : لِی امْشِی خَلْفِی وَصِفِی لِی الطَّرِیقَ فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ تُصِیبَ الرِّیحُ ثَوْبَک فَیَصِفَ جَسَدَک۔ فَقَالَ : عُمَرُ فَأَقْبَلَتْ إلَیْہِ لَیْسَتْ بِسَلْفَعٍ مِنَ النِّسَائِ لاَ خَرَّاجَۃٍ وَلأَوَلاَجَۃٍ ، وَاضِعَۃً ثَوْبُہَا عَلَی وَجْہِہَا۔
(٣٢٥٠٣) عمرو بن میمون أودی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے پانی پر پہنچے، تو اس پر بعض لوگوں کو پانی بھرتے ہوئے دیکھا، جب وہ فارغ ہوئے تو انھوں نے دوبارہ کنویں پر چٹان رکھ دی، اور اس کو دس سے کم آدمی نہیں اٹھا سکتے تھے، آپ نے وہاں دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریاں ہٹا رہی تھیں، آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا حالت ہے ؟ انھوں نے آپ کو بتائی، تو آپ پتھر کے پاس آئے اور اس کو اٹھایا پھر ایک ہی ڈول کھینچا تھا کہ بکریاں سیراب ہوگئیں، اور وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس چلی گئیں، اور ان سے قصّہ بیان کیا، اور موسیٰ (علیہ السلام) سائے میں تشریف لے گئے اور فرمایا { رَبِّ إنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ} کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک عورت حیاء کے ساتھ اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے آپ کے پاس آئی، اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ تمہیں ہماری بکریوں کو پانی پلانے کی اجرت دیں، آپ نے فرمایا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاتی رہو، کیونکہ مجھے یہ بات بری لگتی ہے کہ ہوا آپ کے کپڑوں پر لگے تو آپ کا جسم مجھے نظر آئے ، جب وہ اپنے والد کے پاس پہنچی تو اس نے قصہ بیان کیا اور کہا ابا جان اس کو اجرت پر رکھ لیں، بیشک بہترین مزدور وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو، انھوں نے فرمایا اے بیٹی ! تمہیں اس کی امانت اور طاقت کا کیسے علم ہوا ؟ اس نے کہا قوت کا علم اس طرح ہوا کہ انھوں نے پتھر کو اکیلے اٹھایا جبکہ اس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں، اور اس کی امانت کا علم اس طرح ہوا کہ اس نے مجھے کہا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاؤ۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ تمہارے کپڑوں پر ہوا لگے اور مجھے تمہارا جسم نظر آئے۔
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آئی اس طرح کہ جری عورتوں کی طرح نہیں تھی اور نہ بہت گھر سے نکلنے اور داخل ہونے والی تھی اور اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے تھی۔