hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32503

.

ابن أبي شيبة

32503
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۵۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَتَی مُوسَی قَوْمَہُ فَأَمَرَہُمْ بِالزَّکَاۃِ ، فَجَمَعَہُمْ قَارُونُ ، فَقَالَ : ہَذَا قَدْ جَائَکُمْ بِالصَّوْمِ وَالصَّلاَۃِ وَبِأَشْیَائَ تُطِیقُونَہَا ، فَتَحْتَمِلُونَ أَنْ تُعْطُوہُ أَمْوَالَکُمْ ؟ قَالُوا : مَا نَحْتَمِلُ أَنْ نُعْطِیَہُ أَمْوَالَنَا فَمَا تَرَی؟ قَالَ : أَرَی أَنْ نُرْسِلَ إلَی بَغِیِّ بَنِی إسْرَائِیلَ فَنَأْمُرَہَا أَنْ تَرْمِیَہُ عَلَی رُؤُوسِ الأَحْبَارِ وَالنَّاسِ بِأَنَّہُ أَرَادَہَا عَلَی نَفْسِہَا ، فَفَعَلُوا ، فَرَمَتْ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ عَلَی رُؤُوسِ النَّاسِ ، فَدَعَا اللَّہَ عَلَیْہِمْ ، فَأَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی إلَی الأَرْضِ أَنْ أَطِیعِیہِ، فَقَالَ لَہَا مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ: خُذِیہِمْ، فَأَخَذَتْہُمْ إلَی أَعقَابہم فَجَعَلُوا یَقُولُونَ: یَامُوسَی یَا مُوسَی فَقَالَ: خُذِیہِمْ ، فَأَخَذَتْہُمْ إلَی رُکَبِہِمْ، قَالَ: فَجَعَلُوا یَقُولُونَ: یَا مُوسَی یَا مُوسَی، قَالَ: خُذِیہِمْ، فَأَخَذَتْہُمْ إلَی حُجَزِہِمْ ، فَجَعَلُوا یَقُولُونَ یَا مُوسَی یَا مُوسَی، قَالَ: خُذِیہِمْ، فَأَخَذَتْہُمْ إلَی أَعْنَاقِہِمْ، فَجَعَلُوا یَقُولُونَ : یَا مُوسَی یَا مُوسَی، قَالَ: فَأَخَذَتْہُمْ فَغَیَّبَتْہُمْ ، فَأَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی إلَی مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ: یَا مُوسَی، سَأَلَک عِبَادِی وَتَضَرَّعُوا إلَیْک فَأَبَیْت أَنْ تُجِیبَہُمْ، أَمَا وَعِزَّتِی لَوْ إیَّایَ دَعَوْنِی لاَجَبْتُہُمْ۔ (حاکم ۴۰۸)
(٣٢٥٠٤) عبداللہ بن حارث حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو زکوۃ کا حکم فرمایا تو قارون نے ان کو جمع کیا اور کہا کہ یہ تمہارے پاس ایسے حکم لائے یعنی نماز، روزہ وغیرہ کا جس کی تم طاقت رکھتے ہو، تو کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ ان کو اپنے اموال دو ؟ وہ کہنے لگے ہمیں اس کی طاقت نہیں ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم بنو اسرائیل کی زانیہ کو پیغام بھیجیں اور اس کو حکم دیں کہ لوگوں کے سامنے ان پر تہمت لگائے کہ انھوں نے اس کی عزت پر حملہ کیا ہے، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا، اور اس عورت نے موسیٰ (علیہ السلام) کو لوگوں کے سامنے تہمت لگائی آپ نے ان کے خلاف بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی فرمائی کہ ان کی اطاعت کرو، چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ ان کو پکڑ لے، اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑ لیا ، چنانچہ وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے ، چنانچہ اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑلیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے ، چنانچہ اس نے ان کو کمر تک پکڑ لیا، پھر وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے فرمایا ان کو پکڑ لے، چنانچہ اس نے ان کو گردن تک پکڑ لیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! پھر زمین نے ان کو غائب کردیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیٰ ! تم سے میرے بندوں نے سوال کیا اور تمہارے سامنے گریہ زاری کی، لیکن تم نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا، میری عزت کی قسم ! اگر وہ مجھے پکارتے تو میں ان کی دعا قبول کرلیتا۔