(۳۲۵۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ وَخِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو وَمُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : فِی قَوْلِہِ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَکُونُوا کَاَلَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا} قَالَ: کَانَ مِنْ أَذَاہُمْ إیَّاہُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِی إسْرَائِیلَ ، قَالُوا : مَا یَسْتَتِرُ مِنَّا مُوسَی ہَذَا السَّتر إلاَّ مِنْ عَیْبٍ بِجِلْدِہِ : إمَّا بَرَصٌ ، وَإِمَّا آفَۃٌ ، وَإِمَّا أُدْرَۃٌ ، وَإِنَّ اللَّہَ أَرَادَ أَنْ یُبَرِّئَہُ مِمَا قَالُوا : قَالَ : وَإِنَّ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ خَلاَ ذَاتَ یَوْمٍ وَحْدَہُ ، فَوَضَعَ ثَوْبَہُ عَلَی حَجَرٍ ، ثُمَّ دَخَلَ یَغْتَسِلُ ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی ثَوْبِہِ لِیَأْخُذَہُ عَدَا الْحَجَرُ بِثَوْبِہِ ، فَأَخَذَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ عَصَاہُ فِی أَثَرِہِ فَجَعَلَ یَقُولُ : ثَوْبِی یَا حَجَرُ ! ثَوْبِی یَا حَجَرُ! حَتَّی انْتَہَی إلَی مَلأ مِنْ بَنِی إسْرَائِیلَ فَرَأَوْہُ عُرْیَانًا ، فَإِذَا کَأَحْسَنِ الرِّجَالِ خَلْقًا ، فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَّا یَقُولُونَ ، قَالَ : وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَہُ فَلَبِسَہُ ، وَطَفِقَ مُوسَی یَضْرِبُ الْحَجَرَ بِعَصَاہُ ، فَوَاللہِ إنَّ بِالْحَجَرِ الآنَ مِنْ أَثَرِ ضَرْبِ مُوسَی نَدَبًا ، ذَکَرَ ثَلاَث ، أَوْ أَرْبَع ، أَوْ خَمْس۔ (احمد ۵۱۴۔ طبری ۵۱)
(٣٢٥١٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے اللہ کے فرمان { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَکُونُوا کَاَلَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کی تفسیر میں روایت ہے فرمایا کہ انھوں نے آپ کو اذیت اس طرح تھی کہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت نے ان سے کہا کہ موسیٰ ہم سے اس لیے چھپتے ہیں کہ ان کی جلد میں کوئی عیب ہے یا برص ہے یا کوئی اور بیماری یا أُدرہ بیماری ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس بات سے بری کرنے کا ارادہ فرمایا تو ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) خلوت میں گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے پھر داخل ہو کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو اپنے کپڑوں کی طرف آئے تاکہ کپڑے لے لیں، چنانچہ پتھر دوڑنے لگا، موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پکڑی اور اس کے پیچھے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگے اے پتھر ! میرے کپڑے، اے پتھر ! میرے کپڑے ، یہاں تک کہ جب وہ بنو اسرائیل کی مجلس میں پہنچا اور انھوں نے آپ کو برہنہ دیکھا تو آپ بہترین جسامت والے تھے، اس طرح اللہ نے آپ کو ان کی باتوں سے بری فرما دیا، اور پتھر ٹھہر گیا اور آپ نے اپنے کپڑے لے کر پہنے اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی سے پتھر کو مارنے لگے، بخدا پتھر پر اب بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب کے نشانات ہیں، تین ہیں یا چار یا پانچ۔