(۳۲۵۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ سُلیمَان بن دَاوُد عَلَیْہِ السَّلاَمُ یُوضَعُ لَہُ سِتُّمِئَۃِ أَلْفِ کُرْسِیٍّ ، ثُمَّ یَجِیئُ أَشْرَافُ الإِنْسِ حَتَّی یَجْلِسُوا مِمَّا یَلِی الأَیْمَنَ ، ثُمَّ یَجِیئُ أَشْرَافُ الْجِنِّ حَتَّی یَجْلِسُوا مِمَّا یَلِی الأَیْسَرَ ، ثُمَّ یَدْعُوَ الطَّیْرَ فَتُظِلُّہُمْ ، ثُمَّ یَدْعُوَ الرِّیحَ فَتَحْمِلَہُمْ ، فَیَسِیرُ فِی الْغَدَاۃِ الْوَاحِدَۃِ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ ، فَبَیْنَمَا ہُوَ ذَاتَ یَوْمٍ یَسِیرُ فِی فَلاَۃٍ مِنَ الأَرْضِ فَاحْتَاجَ إلَی الْمَائِ ، فَدَعَا الْہُدْہُدَ فَجَائَ فَنَقَرَ الأَرْضَ فَأَصَابَ مَوْضِعَ الْمَائِ ثُمَّ تَجِیئُ الشَّیَاطِینُ ذَلِکَ الْمَائَ فَتَسْلَخُہُ کَمَا یُسْلَخُ الإِہَابُ فَیَسْتَخْرِجُوا الْمَائَ مِنْہُ۔
قَالَ : فَقَالَ لَہُ نَافِعُ بْنُ الأَزْرَقِ : قِفْ یَا وَقَّافُ ، أَرَأَیْت قَوْلَک الْہُدْہُدُ یَجِیئُ فَیَنْقُرُ الأَرْضَ فَیُصِیبُ مَوْضِعَ الْمَائِ کَیْفَ یُبْصِرُ ہَذَا ، وَلاَ یُبْصِرُ الْفَخَّ یَجِیئُ إلَیْہِ حَتَّی یَقَعَ فِی عُنُقِہِ ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَیْحَک ، إنَّ الْقَدَرَ حَالَ دُونَ الْبَصَرِ۔
(٣٢٥١٣) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کے لیے چھ لاکھ کرسیاں لگائی جاتی تھیں، پھر انسانوں میں سے شرفاء آتے اور دائیں جانب بیٹھ جاتے، اور پھر جنوں کے شرفاء آتے اور بائیں جانب بیٹھ جاتے، پھر آپ پرندوں کو بلاتے اور وہ ان پر سایہ کرتے، پھر ہوا کو بلاتے اور وہ ان کو اٹھاتی ، اور آپ ایک صبح میں ایک مہینے کی مسافت قطع کرتے، ایک دن آپ اسی طرح ایک میدان میں جارہے تھے کہ آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی، آپ نے ہد ہد کو بلایا، وہ آیا اور اس نے زمین میں چونچ ماری اور پانی کی جگہ بتلائی، پھر اس جگہ شیاطین آئے اور انھوں نے اس جگہ کو اس طرح کھودا جس طرح بکری کی کھال اتاری جاتی ہے اور انھوں نے اس جگہ سے پانی نکالا۔
کہتے ہیں کہ اس پر نافع بن ازرق نے کہا اے ٹھہرنے والے ٹھہر جائیے، آپ کہتے ہیں کہ ہدہد نے آ کر زمین میں پانی کی جگہ چونچ ماری، اس کو یہ کیسے نظر آتا ہے جبکہ اس کو جال بھی نظر نہیں آتا جو آ کر اس کی گردن میں پڑجاتا ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تمہارا ناس ہو، تقدیر آنکھوں کے سامنے حائل ہوجاتی ہے۔