hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32513

.

ابن أبي شيبة

32513
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۵۱۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : کَانَ کُرْسِیُّ سُلَیْمَانَ یُوضَعُ عَلَی الرِّیحِ وَکَرَاسِیُّ مَنْ أَرَاْدَ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ ، فَاحْتَاجَ إلَی الْمَائِ فَلَمْ یَعْلَمُوا بِمَکَانِہِ وَتَفَقَّدَ الطَّیْرَ عِنْدَ ذَلِکَ فَلَمْ یَجِدَ الْہُدْہُدَ فَتَوَعَّدَہُ ، وَکَانَ عَذَابُہُ نَتْفَہُ وَتَشْمِیسَہُ ، قَالَ : فَلَمَّا جَائَ اسْتَقْبَلَہُ الطَّیْرُ فَقَالُوا : قَدْ تَوَعَّدَک سُلَیْمَانُ ، فَقَالَ : الْہُدْہُدُ : اسْتَثْنَی ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، إلاَّ أَنْ تَجِیئَ بِعُذْرٍ ، وَکَانَ عُذْرُہُ أَنْ جَائَ بِخَبَرِ صَاحِبَۃِ سَبَأٍ ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِمْ سُلَیْمَان : {إِنَّہُ مِن سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، أَلاَّ تَعْلُوا عَلَیَّ وَأْتُونِی مُسْلِمِینَ}۔ قَالَ : فَأَقْبَلَتْ بِلْقِیسُ ، فَلَمَّا کَانَتْ عَلَی قَدْرِ فَرْسَخٍ ، قَالَ سُلَیْمَانُ : {أَیُّکُمْ یَأْتِینِی بِعَرْشِہَا قَبْلَ أَن یَأْتُونِی مُسْلِمِینَ ، قَالَ عِفْریتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّی عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ أَمِینٌ} قَالَ : فَقَالَ سُلَیْمَانُ: أُرِیدُ أَعْجَلَ مِنْ ذَلِکَ، {قَالَ الَّذِی عِندَہُ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ}۔ قَالَ : فَأَخْبَرَنِی مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاہِدٍ إِنَّہُ دَخَلَ فِی نَفَقٍ تَحْتَ الأَرْضِ فَجَائَہُ بِہِ ، قَالَ سُلَیْمَانُ : غَیِّرُوہُ ، {فَلَمَّا جَاء تْ قِیلَ أَہَکَذَا عَرْشُکِ} ، قَالَ : فَجَعَلَتْ تَعْرِفُ وَتُنْکِرُ ، وَعَجِبَتْ مِنْ سُرْعَتِہِ ، وَ{قَالَتْ کَأَنَّہُ ہُوَ} {قِیلَ لَہَا اُدْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا} فَإِذَا امْرَأَۃٌ شَعْرَائُ ، قَالَ : فَقَالَ سُلَیْمَانُ : مَا یُذْہِبُ ہَذَا ؟ قَالُوا : النُّورَۃُ ، قَالَ فَجُعِلَتِ النُّورَۃُ یَوْمَئِذٍ۔
(٣٢٥١٤) حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی ہوا پر رکھی جاتی اور اس کے ساتھ جن جنات اور انسانوں کو آپ چاہتے ان کی کرسیاں رکھی جاتیں، آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی لیکن لوگوں کو اس کا علم نہ تھا، چنانچہ آپ نے اس وقت پرندوں کو تلاش کیا تو ہد ہد کو نہ پایا، آپ نے اس کو دھمکی دی ، اور اس کی سزا یہ تھی کہ اس کے پر اکھیڑ کر اس کو دھوپ میں رکھا جائے، جب وہ آیا تو پرندوں نے اس سے ملاقات کی اور کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تمہارے لیے سزا کا اعلان کیا ہے، ہدہد نے کہا کیا انھوں نے کوئی استثناء کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے جی ہاں ! یہ کہ آپ کوئی عذر بیان کریں، اور اس کا عذر یہ تھا کہ وہ ملکہ سبا کا قصہ دیکھ کر آیا تھا، چنانچہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان کو لکھا {إِنَّہُ مِن سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، أَلاَّ تَعْلُوا عَلَیَّ وَأْتُونِی مُسْلِمِینَ } کہتے ہیں کہ بلقیس چلی ، جب وہ ایک فرسخ کی مسافت پر تھی تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا { أَیُّکُمْ یَأْتِینِی بِعَرْشِہَا قَبْلَ أَن یَأْتُونِی مُسْلِمِینَ ، قَالَ عِفْریتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّی عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ أَمِینٌ} حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے زیادہ جلدی چاہتا ہوں، { قَالَ الَّذِی عِندَہُ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ }، کہتے ہیں کہ مجھے منصور نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ زمین کے نیچے ایک سرنگ میں داخل ہوئے اور اس کو لے آئے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا اس کو تبدیل کردو۔ { قِیلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا } چنانچہ دیکھا وہ بہت بال والی عورت تھیں، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کو کیا چیز ختم کرے گی ؟ لوگوں نے کہا چونا چنانچہ اس وقت چونے کا استعمال ہوا۔