(۳۲۶۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : قَالَ عَمْرٌو : أَیُّ النَّاسِ أَحَبُّ إلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : وَلِمَا ؟ قَالَ : لِنُحِبَّ مَنْ تُحِبُّ ، قَالَ : أَحَبُّ النَّاسِ إلَیَّ عَائِشَۃُ ، قَالَ : لَسْتُ أَسْأَلُک عَنِ النِّسَائِ ، إنَّمَا أَسْأَلُک عَنِ الرِّجَالِ ، فَقَالَ مَرَّۃً : أَبُوہَا ، وَقَالَ مَرَّۃً : أَبُو بَکْرٍ۔ (بخاری ۳۶۶۲۔ حاکم ۱۲)
(٣٢٦٢١) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو (رض) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول 5! لوگوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں ؟ آپ (رض) نے عرض کیا : تاکہ ہم بھی اس سے محبت رکھیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ پسند ” عائشہ “ ہیں۔ آپ (رض) نے عرض کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عورتوں سے متعلق نہیں پوچھ رہا بلکہ میں مردوں میں سے پوچھ رہا ہوں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ فرمایا : ان کے والد اور ایک مرتبہ فرمایا : ” ابوبکر (رض) “