(۳۲۶۲۴) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : وَفَدْنَا إِلَی مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : فَمَا أُعْجِبَ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرَۃَ ، حَدِّثْنِی بِشَیْئٍ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ وَکَانَتْ تُعْجِبُہُ الرُّؤْیَا یُسْأَلُ عنہا فَسَمِعْتہ یَقُولُ : رَأَیْت مِیزَانًا أُنْزِلَ مِنَ السَّمَائِ فَوُزِنْتُ فِیہِ أَنَا ، وَأَبُو بَکْرٍ فَرَجَحْتُ بِأَبِی بَکْرٍ ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَکْرٍ بِعُمَرَ فَرَجَحَ أَبُو بَکْرٍ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَان فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِیزَانُ إِلَی السَّمَائِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلاَفَۃٌ وَنُبُوَّۃٌ ، ثُمَّ یُؤْتِی اللَّہُ الْمُلْکَ مَنْ یَشَائُ ، قَالَ : فَزُجَّ فِی أَقْفِیَتِنَا فَأُخْرِجْنَا۔
(٣٢٦٢٤) حضرت ابو بکرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی صورت میں حاضر ہوئے۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے کوئی وفد اتنا پسند نہیں آیا جتنا ہمارا وفد پسند آیا۔ پھر فرمایا : اے ابو بکرہ (رض) ! مجھے کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسند فرماتے تھے کہ جب ان سے خوابوں کے بارے میں پوچھا جاتا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ایک ترازو دیکھا جو آسمان سے اترا، پس اس میں میرا اور ابوبکر (رض) کا وزن کیا گیا تو میر پلڑا ابوبکر سے بھاری ہوگیا۔ پھر ابوبکر کا عمر کے ساتھ وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ پھر عمر اور عثمان کا وزن کیا گیا تو عمر کا پلڑا عثمان پر بھاری ہوگیا۔ پھر ترازو کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خلافت اور نبوت ہوگی پھر اللہ جس کو چاہیں گے ملک عطا فرما دیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پس ہمیں گدی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔