(۳۲۶۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ذَکَرَ رَجُلاَنِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : قُتِلَ شَہِیدًا ، فَتَعَلَّقَ بِہِ الآخَرُ فَأَتَی بِہِ عَلِیًّا ، فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا یَزْعُمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قُتِلَ شَہِیدًا ، قَالَ : قُلْتُ ذَاکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا تَذْکُرُ یَوْمَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَہُ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ وَعُثْمَان ، فَسَأَلْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِی ، وَسَأَلْت أَبَا بَکْرٍ فَأَعْطَانِی ، وَسَأَلْت عُمَرَ فَأَعْطَانِی ، وَسَأَلْت عُثْمَانَ فَأَعْطَانِی ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ادْعُ اللَّہَ أَنْ یُبَارِکَ لِی ، قَالَ : وَمَا لَکَ لاَ یُبَارَکُ لَکَ وَقَدْ أَعْطَاک نَبِیٌّ وَصِدِّیقٌ وَشَہِیدَانِ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : دَعْہُ ، دَعْہُ ، دَعْہُ۔ (ابویعلی ۱۵۹۸)
(٣٢٦٢٥) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضرت عثمان (رض) کا ذکر کیا پس ان میں سے ایک کہنے لگا۔ ان کو شہید کردیا گیا ، تو دوسرا اس کو پکڑ کر حضرت علی (رض) کے پاس لے آیا اور کہنے لگا : بلاشبہ یہ شخص کہتا ہے کہ یقیناً حضرت عثمان (رض) کو شہید کردیا گیا تھا ! آپ (رض) نے فرمایا : تم نے یہ کہا ہے ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! کہا آپ (رض) کو یاد نہیں وہ دن جب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ پس میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مانگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت ابوبکر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت عثمان (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی مجھے عطا کیا۔ پس میں نے عرض کی۔ اے اللہ کے رسول 5! میرے لیے برکت کی دعا فرما دیجئے اللہ مجھے برکت عطا کرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے برکت کیوں نہیں دی جائے گی حالانکہ تجھے ایک نبی، اور ایک صدیق اور دو شہیدوں نے عطا کیا ہے ؟ ! پس حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ، اس کو چھوڑ دو ، اس کو چھوڑ دو ۔