(۳۲۶۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُرِیتُ فِی النَّوْمِ کَأَنِّی أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَکْرَۃٍ عَلَی قَلِیبٍ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا، أَوْ ذَنُوبَیْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِیفًا وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَہُ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَسْقَی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَفْرِی فَرِیَّہُ حَتَّی رَوِیَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِالْعَطَنِ۔
(٣٢٦٣٢) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے خواب میں دکھلایا گیا : گویا کہ میں کنویں پر چرخی سے ڈول کھینچ رہا ہوں پس ابوبکر آئے پھر انھوں نے ایک یا دو ڈول نکالے اور انھوں نے بہت کمزوری سے ڈول کھینچا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے ، پھر عمر بن خطاب آیا پس اس نے پانی نکالا یہاں تک کہ چمڑے کا ڈول ٹیڑھا ہوگیا ۔ پس میں نے ایسا کوئی زورآور شخص نہیں دیکھا جو عمر (رض) جیسا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔ اور وہ سب لوگ پانی کے پاس بیٹھ گئے۔