(۳۲۶۵۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : إذَا ذُکِرَ الصَّالِحُونَ فَحَیَّ ہَلاً بِعُمَرَ ، إنَّ إسْلامَہُ کَانَ نَصْرًا ، وَإِنَّ إمَارَتَہُ کَانَتْ فَتْحًا ، وَایْمُ اللہِ ، مَا أَعْلَمُ عَلَی الأَرْضِ شَیْئًا إلاَّ وَقَدْ وَجَدَ فَقْدَ عُمَرَ حَتَّی الْعِضَاہُ ، وَایْمُ اللہِ إنِّی لأَحْسَبُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ مَلَکًا یُسَدِّدُہُ وَیُرْشِدُہُ ، وَایْمُ اللہِ إِنِّی لأَحْسَبُ الشَّیْطَانَ یَفْرَقُ أَنْ یُحْدِثَ فِی الإِسْلاَمِ فَیَرُدَّ عَلَیْہِ عُمَرُ ، وَایْمُ اللہِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ کَلْبًا یُحِبُّ عُمَرَ لأَحْبَبْتہ۔
(٣٢٦٥٢) حضرت زر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے سامنے نیکو کاروں کا ذکر کیا جاتا تو وہ فوراً حضرت عمر (رض) کا نعرہ لگاتے۔ اور فرماتے ! یقیناً ان کا اسلام مسلمانوں کی مدد تھی اور ان کی خلافت مسلمانوں کی فتح تھی۔ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا زمین پر کسی چیز کو مگر یہ کہ ہر چیز نے حضرت عمر (رض) کی کمی محسوس کی یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں نے بھی۔ اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں گمان کرتا تھا کہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو ان کو سیدھی راہ دکھاتا ہے اور ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ اور اللہ کی قسم ! بلاشبہ شیطان خوف کھاتا تھا اس بات سے کہ وہ اسلام میں کوئی رخنہ ڈالے اس لیے کہ حضرت عمر (رض) اس کو اس پر واپس لوٹا دیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کوئی کتا بھی حضرت عمر (رض) سے محبت کرتا ہے تو میں اس سے بھی محبت کرنے لگوں۔