(۳۲۶۵۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : دَخَلْت الْجَنَّۃَ فَإِذَا فِیہَا قَصْرٌ مِنْ ذَہَبٍ فَأَعْجَبَنِی حُسْنُہُ ، فَسَأَلْت : لِمَنْ ہَذَا ؟ فَقِیلَ لِی : لِعُمَرَ ، فَمَا مَنَعَنِِی أَنْ أَدْخُلَہُ إلاَّ لِمَا أَعْلَمُ مِنْ غَیْرَتِکَ یَا أَبَا حَفْصٍ ، فَبَکَی عُمَرُ ، وَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، عَلَیْک أَغَارُ ؟!۔ (بخاری ۳۲۴۲۔ احمد ۳۳۹)
(٣٢٦٥٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو اس میں میں نے ایک سونے کا محل دیکھا جس کی خوبصورتی مجھے بہت اچھی لگی ۔ پس میں نے پوچھا : یہ کس کے لیے ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا : عمر بن خطاب کے لیے۔ پس مجھے کسی بات نے بھی نہیں روکا اس میں داخل ہونے سے مگر یہ کہ مجھے اے ابو حفص تیری غیرت کا خیال آیا۔ تو حضرت عمر (رض) رونے لگے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غیرت کھاؤں گا ؟ !