(۳۲۷۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَہْدَلَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: کَانَ عُثْمَان یَکْتُبُ وَصِیَّۃَ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَتْ: فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ فَعَجَّلَ وَکَتَبَ : عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : مَنْ کَتَبْت ، قَالَ : عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : کَتَبْتَ الَّذِی أَرَدْتُ ، الَّذِی آمُرُک بِہِ ، وَلَوْ کَتَبْتَ نَفْسَک کُنْتَ لَہَا أَہْلاً۔
(٣٢٧٠٣) حضرت ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عثمان (رض) حضرت ابوبکر (رض) کی وصیت لکھ رہے تھے کہ آپ (رض) پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ تو حضرت عثمان (رض) نے جلدی سے حضرت عمر بن خطاب (رض) کا نام لکھ دیا۔ پس جب آپ (رض) کو افاقہ ہوا تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے پوچھا : تم نے کس کا نام لکھا ؟ انھوں نے فرمایا : عمر بن خطاب (رض) کا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تو نے وہی بات لکھی کہ میں نے یہی چاہا تھا کہ اس کے لکھنے کا تمہیں حکم دوں۔ اور اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم بھی اس منصب کے اہل تھے۔