(۳۲۷۰۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ کُلَیْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : شَہِدَ بَدْرًا ، فَقَالَ : لاَ فَقَالَ : ہَلْ شَہِدَ بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ ، فَقَالَ : لاَ قَالَ : فَہَلْ تَوَلَّی یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ثُمَّ ذَہَبَ الرَّجُلُ فَقِیلَ لابْنِ عُمَرَ : إنَّ ہَذَا یَزْعُمُ أَنَّک عِبْت عُثْمَانَ ، قَالَ : رُدُّوہُ علی ، قَالَ : فَرَدُّوہُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ : ہَلْ عَقَلْت مَا قُلْتُ لَکَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : سَأَلْتُنِی ہَلْ شَہِدَ عُثْمَان بَدْرًا ، فَقُلْتُ لَکَ : لاَ فَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّہُمَّ إنَّ عُثْمَانَ فِی حَاجَتِکَ وَحَاجَۃِ رَسُولِکَ ، فَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ ، وَسَأَلْتنِی ہَلْ شَہِدَ بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَکَ : لاَ وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَہُ إِلَی الأَحْزَابِ لِیُوَادِعُونَا وَیُسَالِمُونَا فَأَبَوْا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَایَعَ لَہُ وَقَالَ : اللَّہُمَّ إنَّ عُثْمَانَ فِی حَاجَتِکَ وَحَاجَۃِ رَسُولِکَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِإِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی فَبَایَعَ لَہُ ، وَسَأَلْتنِی ہَلْ کَانَ عُثْمَان تَوَلَّی یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، وَإِنَّ اللَّہَ ، قَالَ : {إنَّ الَّذِینَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ إنَّمَا اسْتَزَلَّہُمَ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّہُ عَنْہُمْ} فَاذْہَبْ فَاجْہَدْ عَلَی جَہْدِک۔ (ابوداؤد ۲۷۲۰۔ طبرانی ۱۲۵)
(٣٢٧٠٤) حضرت حبیب بن ابی ملیکہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے حضرت عثمان (رض) کے متعلق پوچھا : کہ کیا وہ غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں۔ پھر اس نے پوچھا : کیا وہ بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے تھے ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! اس نے پوچھا : کہ کیا وہ اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکر آمنے سامنے ہوئے تھے ( غزوہ احد) ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پھر وہ آدمی چلا گیا تو حضرت ابن عمر (رض) سے کہا گیا : بلاشبہ یہ آدمی سمجھا کہ آپ (رض) نے حضرت عثمان (رض) کا عیب بیان کیا ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کو میرے پاس واپس بلاؤ۔ پس اس شخص کو واپس لے آئے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : جو میں نے تمہیں کہا ہے کیا تم اسے سمجھے بھی ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں !
آپ (رض) نے فرمایا : تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان (رض) غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا : اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان (رض) بیعت الرضوان میں حاضر تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں تھے۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مشرکوں کی طرف بھیجا کہ وہ لوگ ہم سے مصالحت کرلیں مگر ان لوگوں نے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے بیعت لی۔ اور فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں دے کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکروں کا آمنا سامنا ہوا ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا : جی ہاں ! اور یقیناً اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ( ترجمہ : بیشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تم میں سے جس دن باہم ٹکرائیں دو فوجیں۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ قدم ڈگمگا دیے تھے ان کے شیطان نے بوجہ بعض ان حرکتوں کے جو وہ کر بیٹھے تھے۔ بہرحال معاف کردیا اللہ نے انہیں) پس تم جاؤ اور جو میرے خلاف کرنا ہے کرو۔