(۳۲۷۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَامِرٍ یَقُولُ : لَمَّا تشعب النَّاسُ فِی الطَّعْنِ عَلَی عُثْمَانَ قَامَ أَبِی فَصَلَّی مِنَ اللَّیْلِ ثم نام ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : قُمْ فَاسْأَلَ اللَّہَ أَنْ یُعِیذَک مِنَ الْفِتْنَۃِ الَّتِی أَعَاذَ مِنْہَا عِبَادَہُ الصَّالِحِینَ ، قَالَ : فَقَامَ فَمَرِضَ ، قَالَ : فَمَا رُئِیَ خَارِجًا حَتَّی مَاتَ۔
(٣٢٧٠٧) حضرت یحییٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عامر (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عثمان (رض) پر طعن وتشنیع کے بارے میں لوگوں میں آراء مختلف ہونے لگیں تو میرے والد کھڑے ہوئے اور رات کی نماز پڑھی پھر وہ سو گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ پس ان کو کہا گیا : کھڑے ہو کر اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہیں بھی اس فتنہ سے محفوظ رکھے جیسے اس نے اپنے نیک بندوں کو اس سے محفوظ رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ انھوں نے قیام کیا پھر وہ بیمار ہوگئے ۔ پھر ان کو باہر نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔