hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32707

.

ابن أبي شيبة

32707
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۷۰۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ الدِّمَشْقِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ قَیْسٍ أَنَّہُ سَمِعَ النُّعْمَانَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ أَنَّہُ أَرْسَلَہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ بِکِتَابٍ إِلَی عَائِشَۃَ فَدَفَعَہُ إلَیْہَا ، فَقَالَتْ لِی : أما أُحَدِّثُک بِحَدِیثٍ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَتْ : إنِّی عِنْدَہُ ذَاتَ یَوْمٍ أَنَا وَحَفْصَۃُ ، فَقَالَ : لَوْ کَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ یُحَدِّثُنَا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَبْعَثُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ فَیَجِیئُ فَیُحَدِّثُنَا ، قَالَ : فَسَکَتَ ، فَقَالَتْ حَفْصَۃُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَبْعَثُ إِلَی عُمَرَ فَیُحَدِّثُنَا ، فَسَکَتَ ، قَالَتْ : فَدَعَا رَجُلاً فأصر إلَیْہِ دُونَنَا فَذَہَبَ ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَان فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ بِوَجْہِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : یَا عُثْمَان ، إنَّ اللَّہَ لَعَلَّہُ أَنْ یُقَمَّصَکَ قَمِیصًا ، فَإِنْ أَرَادُوک عَلَی خَلْعِہِ فَلاَ تَخْلَعْہُ ثَلاَثًا ، قُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، أَیْنَ کُنْتِ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ ، قَالَتْ : أُنْسِیتُہُ کَأَنِّی لَمْ أَسْمَعْہُ قَطُّ۔ (ابن ماجہ ۱۱۲۔ احمد ۱۴۹)
(٣٢٧٠٨) حضرت عبداللہ بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیر (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے ان کو ایک خط دے کر حضرت عائشہ (رض) کے پاس بھیجا تو انھوں نے وہ خط ان کو دے دیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی تھی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور سنائیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : ایک دن میں اور حضرت حفصہ (رض) ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمانے لگے۔ کاش کہ ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا تو وہ ہم سے بات کرتا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! میں حضرت ابوبکر (رض) کو پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ آئیں اور ہم سے بات چیت کریں ؟ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ پھر حضرت حفصہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! میں حضرت عمر (رض) کی طرف پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ ہم سے بات چیت کریں ۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے ۔ آپ (رض) نے فرمایا : کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو بلا کر ہم سے ہٹ کر اس سے سرگوشی کی پھر وہ چلا گیا پھر حضرت عثمان (رض) حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا چہرہ ان کی طرف متوجہ کیا۔ پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اے عثمان : شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے پس اگر کچھ لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں تو تم ہرگز اس کو مت اتارنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ تین بار ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی۔ اے ام المؤمنین ! آپ (رض) نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی ؟ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے یہ بھلا دی گئی تھی گویا کہ میں نے اس کو کبھی سنا ہی نہ ہو۔