(۳۲۷۲۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَمَّا عَرَضَ عُمَرُ ابْنَتَہُ عَلَی عُثْمَانَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلاَ أَدُلُّ عُثْمَانَ عَلَی مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا ، وَأَدُلُّہَا عَلَی مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لَہَا مِنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَتَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللہِ وَزَوَّجَ عُثْمَانَ ابْنَتَہُ۔ (حاکم ۱۰۶)
(٣٢٧٢٥) حضرت سفیان بن حسین (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جب حضرت عمر (رض) نے اپنی بیٹی کا رشتہ حضرت عثمان (رض) پر پیش کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں راہنمائی نہ کروں اس شخص پر جو عثمان سے زیادہ بہتر ہے۔ اور میں اس کی راہنمائی نہ کروں عثمان کے لیے اس عورت پر جو اس عورت سے بہتر ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کی بیٹی سے خود نکاح کرلیا۔ اور حضرت عثمان (رض) کا نکاح اپنی بیٹی سے کروا دیا۔