(۳۲۷۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہُ عُثْمَان ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّہُمْ یَسُبُّونَہُ ، فَقَالَ : وَیْحَہُمْ یَسُبُّونَ رَجُلاً دَخَلَ عَلَی النَّجَاشِیِّ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ محمد صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُلُّہُمْ أَعْطَی الْفِتْنَۃَ غَیْرَہُ ، قَالُوا : وَمَا الْفِتْنَۃُ الَّتِی أَعْطَوْہَا ، قَالَ : کَانَ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْہِ أَحَدٌ إلاَّ أَوْمَأَ إلیہ بِرَأْسِہِ فَأَبَی عُثْمَان ، فَقَالَ : مَا مَنَعَک أَنْ تَسْجُدَ کَمَا سَجَدَ أَصْحَابُک ، فَقَالَ : مَا کُنْتُ لأَسْجُدَ لأَحَدٍ دُونَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
(٣٢٧٢٦) حضرت عاصم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین (رض) کے پاس حضرت عثمان (رض) کا ذکر کیا گیا تو ایک آدمی کہنے لگا۔ یقیناً لوگ تو ان کو گالیاں دیتے ہیں ! اس پر آپ (رض) نے فرمایا : ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایسے شخص کو گالیاں دیتے ہیں جو نجاشی بادشاہ پر داخل ہوا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے ایسے گروہ میں سے کہ سب ان کے علاوہ فتنہ میں پڑگئے تھے ! لوگوں نے پوچھا : کہ وہ لوگ کس فتنہ میں پڑے تھے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جو شخص بھی اس بادشاہ پر داخل ہوتا تو وہ سر جھکا کر اس کو سلام کرتا۔ پس حضرت عثمان (رض) نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ، تو اس بادشاہ نے پوچھا : تمہیں کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جیسا کہ تمہارے ساتھیوں نے سجدہ کیا ؟ تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کو بھی سجدہ نہیں کرتا۔