hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32742

.

ابن أبي شيبة

32742
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۷۴۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، وَالْمِنْہَالِ ، وَعِیسَی ، عَنْ عبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ یَخْرُجُ فِی الشِّتَائِ فِی إزَارٍ وَرِدَائٍ ثَوْبَیْنِ خَفِیفَیْنِ ، وَفِی الصَّیْفِ فِی الْقَبَائِ الْمَحْشُوِّ وَالثَّوْبِ الثَّقِیلِ ، فَقَالَ : النَّاسُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : لَوْ قُلْتُ لأَبِیک فَإِنَّہُ یَسْمرُ مَعَہُ ، فَسَأَلْت أَبِی ، فَقُلْتُ : إنَّ النَّاسَ قَدْ رَأَوْا مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ شَیْئًا اسْتَنْکَرُوہُ ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ، قَالَ : یَخْرُجُ فِی الْحَرِّ الشَّدِیدِ فِی الْقَبَائِ الْمَحْشُوِّ وَالثَّوْبِ الثَّقِیلِ ، وَلاَ یُبَالِی ذَلِکَ ، وَیَخْرُجُ فِی الْبَرْدِ الشَّدِیدِ فِی الثَّوْبَیْنِ الْخَفِیفَیْنِ وَالْمُلاَئَتَیْنِ لاَ یُبَالِی ذَلِکَ وَلاَ یَتَّقِی بَرْدًا ، فَہَلْ سَمِعْت فِی ذَلِکَ شَیْئًا فَقَدْ أَمَرُونِی أَنْ أَسْأَلَک أَنْ تَسْأَلَہُ إذَا سَمَرْت عِنْدَہُ ، فَسَمَرَ عِنْدَہُ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنَّ النَّاسَ قَدْ تَفَقَّدُوا مِنْک شَیْئًا ، قَالَ : وَمَا ہُوَ ، قَالَ : تَخْرُجُ فِی الْحَرِّ الشَّدِیدِ فِی الْقَبَائِ الْمَحْشُوِّ أو الثَّوْبِ الثَّقِیلِ وَتَخْرُجُ فِی الْبَرْدِ الشَّدِیدِ فِی الثَّوْبَیْنِ الْخَفِیفَیْنِ وَفِی الْمُلاَئَتَیْنِ لاَ تُبَالِی ذَلِکَ ، وَلاَ تَتَّقِی بَرْدًا ، قَالَ : وَمَا کُنْتَ مَعَنَا یَا أَبَا لَیْلَی بِخَیْبَرَ ، قَالَ : قُلْتُ بَلَی ، وَاللہِ قَدْ کُنْت مَعَکُمْ ، قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَکْرٍ فَسَارَ بِالنَّاسِ فَانْہَزَمَ حَتَّی رَجَعَ إلَیْہِ ، وَبَعَثَ عُمَرَ فَانْہَزَمَ بِالنَّاسِ حَتَّی انْتَہَی إلَیْہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، یَفْتَحُ اللَّہُ لَہُ ، لَیْسَ بِفَرَّارٍ فَأَرْسَلَ إلَیَّ فَدَعَانِی ، فَأَتَیْتہ وَأَنَا أَرْمَدُ لاَ أُبْصِرُ شَیْئًا ، فَتَفَلَ فِی عَیْنِی ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ اکْفِہِ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ ، قَالَ فَمَا آذَانِی بَعْدُ حَرٌّ ، وَلاَ بَرْدٌ۔ (احمد ۹۹)
(٣٢٧٤٣) حضرت حکم (رض) اور حضرت منھال (رض) اور حضرت عیسیٰ (رض) ، یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) نے فرمایا : کہ حضرت علی (رض) سردیوں میں تہہ بند اور چادر دو باریک کپڑوں میں نکلتے تھے۔ اور گرمیوں میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے ! تو لوگ حضرت عبدالرحمن سے کہنے لگے : اگر آپ (رض) اپنے والد سے پوچھ لیں تو وہ آپ کو بتلا دیں گے اس لیے کہ وہ رات کو ان سے بات چیت کرتے ہیں۔ پس میں نے اپنے والد سے پوچھا : کہ لوگ امیر المؤمنین میں ایسی چیز دیکھتے ہیں جس کو وہ عجیب سمجھتے ہیں ؟ انھوں نے پوچھا : وہ کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا : آپ (رض) سخت گرمی میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں اور آپ (رض) کو اس کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور سخت سردی میں آپ (رض) دو باریک کپڑوں اور چھوٹی چادروں میں نکلتے ہیں اور آپ (رض) کو اس چیز کی بالکل پروا بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ (رض) سردی سے بچتے ہیں۔ کیا آپ (رض) نے ان سے اس بارے میں کچھ سنا ہے ؟ اس لیے کہ لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے کہوں کے آپ حضرت علی (رض) سے جب رات کو بات کریں تو اس بارے میں دریافت کریں۔
پس جب رات کو انھوں نے حضرت علی (رض) سے بات چیت کی تو ان سے کہا : اے امیر المؤمنین : لوگوں نے آپ (رض) کی ایک چیز کا جائزہ لیا ہے۔ آپ (رض) نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ (رض) سخت گرمی میں گرم چوغہ یا بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں۔ اور شدید سردی کی حالت میں آپ (رض) دو باریک کپڑوں اور چادروں میں نکلتے ہیں۔ اور آپ (رض) کو اس بات کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی آپ (رض) سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ! آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو لیلیٰ کیا تم غزوہ خیبر کے موقع پر ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ تھا۔ آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو بھیجا وہ لوگوں کو لے کر گئے پس وہ شکست کھا کر واپس لوٹ آئے ۔ اور حضرت عمر (رض) کو بھیجا مگر وہ بھی شکست کھا کر واپس آئے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ اس کو فتح عطا فرمائیں گے ۔ وہ شخص پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہیں ہے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاصد بھیجا مجھے بلانے کے لیے۔ میں حاضر خدمت ہوگیا ، اور میں آشوب چشم میں مبتلا تھا میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھ میں لعاب ڈالا ، پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ ! تو سردی اور گرمی سے اس کی کفایت فرما۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کے بعد سے مجھے کبھی سردی اور گرمی نے تکلیف نہیں پہنچائی۔