(۳۲۷۴۴) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، لَیَبْعَثَنَّ اللَّہُ عَلَیْکُمْ رَجُلاً مِنْکُمْ قَدِ امْتَحَنَ اللَّہُ قَلْبَہُ لِلإِیمَانِ فَیَضْرِبُکُمْ ، أَوْ یَضْرِبُ رِقَابَکُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَنَا ہُوَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : لاَ فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا ہُوَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنَّہُ خَاصِفُ النَّعْلِ ، وَکَانَ أَعْطَی عَلِیًّا نَعْلَہُ یَخْصِفُہَا۔ (ترمذی ۲۶۶۰۔ احمد ۱۵۵)
(٣٢٧٤٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے گروہ قریش ! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور ایک آدمی بھیجیں گے جو تم ہی میں سے ہوگا۔ تحقیق اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے چن لیا ہے۔ پس وہ تمہیں قتل کرے گا یا یوں فرمایا : کہ وہ تمہاری گردنیں مارے گا۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ جوتوں میں پیوند لگانے والا ہے۔ اور حضرت علی (رض) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جوتا مرحمت فرمایا تھا جس میں انھوں نے پیوند لگایا تھا۔