(۳۲۷۶۳) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی إیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَہُ إِلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، قَالَ : فَجِئْت بِہِ أَقُودُہُ أَرْمَدَ ، قَالَ : فَبَصَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ، ثُمَّ أَعْطَاہُ الرَّایَۃَ ، وَکَانَ الْفَتْحُ عَلَی یَدَیْہِ۔ (مسلم ۱۴۳۳۔ احمد ۵۱)
(٣٢٧٦٣) حضرت ایاس بن سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حضرت علی (رض) کو بلانے کے لیے بھیجا۔ اور ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول 5! اس سے محبت کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پس میں ان کو لایا اس حال میں کہ میں ان کو راستہ دکھانے کے لیے آگے چل رہا تھا کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے ۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک ڈالا پھر ان کو جھنڈا مرحمت فرمایا۔ اور اسی دن اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دے دی۔