(۳۲۷۶۴) حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عُمَیْرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ أَنَا وَأُمِّی وَخَالَتِی، فَسَأَلْنَاہَا: کَیْفَ کَانَ عَلِیٌّ عِنْدَہُ، فَقَالَتْ: تَسْأَلُونِی عَنْ رَجُلٍ وَضَعَ یَدَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَوْضِعًا لَمْ یَضَعْہَا أَحَد ، وَسَالَتْ نَفْسُہُ فِی یَدِہِ ، وَمَسَحَ بِہَا وَجْہَہُ وَمَاتَ ، فَقِیلَ : أَیْنَ تَدْفِنُونہُ، فَقَالَ عَلِیٌّ : مَا فِی الأَرْضِ بُقْعَۃٌ أَحَبُّ إِلَی اللہِ مِنْ بُقْعَۃٍ قُبَضَ فِیہَا نَبِیَّہُ ، فَدَفَنَّاہُ۔ (ابویعلی ۴۸۴۵)
(٣٢٧٦٤) حضرت جُمَیع بن عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں میری والدہ اور میری خالہ حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے پس ہم نے ان سے پوچھا : کہ حضرت علی (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک کیا مقام تھا ؟ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بدن پر ایسی جگہ ہاتھ رکھا جہاں کسی نے بھی نہیں رکھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ان ہاتھ میں نکلی کہ انھوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا۔ پوچھا گیا : تم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہاں دفن کرو گے ؟ تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک زمین کا کوئی ٹکڑا اس حصہ سے زیادہ محبوب نہیں جس میں اس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی۔ لہٰذا ہم نے اسی جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تدفین کردی۔