(۳۲۷۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ أَبِی الْمُعَذَّلِ الطُّفَاوِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِی أُمُّ سَلَمَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَہَا فِی بَیْتِہَا ذَاتَ یَوْمٍ ، فَجَائَتِ الْخَادِمُ ، فَقَالَتْ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ بِالسُّدَّۃِ ، فَقَالَ : تَنَحِّی لِی ، عَنْ أَہْلِ بَیْتِی ، فَتَنَحَّیت فِی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ ، فَدَخَلَ عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَحَسَنٌ وَحُسَیْنٌ ، فَوَضَعَہُمَا فِی حِجْرِہِ ، وَأَخَذَ عَلِیًّا بِإِحْدَی یَدَیْہِ فَضَمَّہُ إلَیْہِ ، وَأَخَذَ فَاطِمَۃَ بِالْیَدِ الأُخْرَی فَضَمَّہَا إلَیْہِ وَقَبَّلَہَا ، وَأَغْدَفَ عَلَیْہِمْ خَمِیصَۃً سَوْدَائَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إلَیْک لاَ إِلَی النَّارِ ، أَنَا وَأَہْلُ بَیْتِی ، قَالَتْ : فَنَادَیْتہ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : وَأَنْتِ۔ (احمد ۲۹۶۔ طبرانی ۹۳۹)
(٣٢٧٦٧) حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں میرے پاس تھے۔ کہ خادمہ نے آکر عرض کیا : حضرت علی (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) دروازے پر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے گھر والوں کے لیے جگہ بناؤ۔ پس میں گھر کے ایک کونے میں ہوگئی۔ تو حضرت علی (رض) ، حضرت فاطمہ (رض) ، حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) تشریف لائے۔ پھر دونوں بچوں کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی گود میں بٹھا لیا ۔ اور اپنے ایک ہاتھ سے علی (رض) کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا لیا اور دوسرے ہاتھ سے فاطمہ (رض) کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا لیا اور ان کا بوسہ بھی لیا۔ اور ان سب پر اپنی کالی چادر ڈال دی۔ پھر ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تیری طرف پناہ پکڑتے ہیں نہ کہ جہنم کی طرف میں اور میرے گھر والے ۔ حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں۔ میں نے پکار کر کہا : اے اللہ کے رسول 5! میں بھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی۔