(۳۲۷۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ ہُبَیْرَۃَ بْنِ یَرِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ قَامَ خَطِیبًا فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، لَقَدْ فَارَقَکُمْ أَمْسِ رَجُلٌ مَا سَبَقَہُ الأَوَّلُونَ ، وَلا یُدْرِکُہُ الآخِرُونَ وَلَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْعَثُہُ الْمَبْعَثَ فَیُعْطِیہِ الرَّایَۃَ فَمَا یَرْجِعُ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ ، جِبْرِیلُ عَنْ یَمِینِہِ وَمِیکَائِیلُ ، عَنْ شِمَالِہِ ، مَا تَرَکَ بَیْضَائَ ، وَلا صَفْرَائَ إلاَّ سَبْعَمِئَۃِ دِرْہَمٍ فَضَلَتْ مِنْ عَطَائِہِ ، أَرَادَ أَنْ یَشْتَرِیَ بِہَا خَادِمًا۔ (احمد ۱۹۹۔ بزار ۲۵۷۴)
(٣٢٧٦٨) حضرت ابو اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ھبیرہ بن یریم (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت حسن بن علی (رض) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے پھر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! کل تم سے ایک ایسا شخص جد اہو گیا کہ نہیں سبقت لے جاسکے اس سے پہلے لوگ اور نہ ہی بعد والے لوگ اس کا مقام پاسکتے ہیں۔ تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو کسی لشکر میں بھیجتے تو ان کو جھنڈا عطا فرماتے پس وہ واپس نہیں لوٹتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا فرما دیتے۔ جبرائیل (علیہ السلام) ان کے دائیں جانب ہوتے اور میکائیل (علیہ السلام) ان کے بائیں جانب ہوتے۔ انھوں نے کوئی سونا، چاندی نہیں چھوڑا سوائے سات درہموں کے جو میں نے ان کی بخشش میں سے بچائے تھے۔ اس لیے کہ ان سے ایک خادم خریدنے کا ارادہ تھا۔