(۳۲۷۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُبْشِیٍّ ، قَالَ : خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ بَعْدَ وَفَاۃِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : لَقَدْ فَارَقَکُمْ رَجُلٌ بِالأَمْسِ لَمْ یَسْبِقْہُ الأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ ، وَلا یُدْرِکُہُ الآخِرُونَ ، کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْطِیہِ الرَّایَۃَ فَلا یَنْصَرِفُ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ۔ (احمد ۱۹۹)
(٣٢٧٧٣) حضرت عمرو بن حبشی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی (رض) نے حضرت علی (رض) کی وفات کے بعد ہم سے خطاب فرمایا : تحقیق کل تم سے وہ شخص جدا ہوگیا کہ پہلے لوگ اس کے علم کو نہیں پا سکے اور نہ بعد والے پا سکے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو جھنڈا عطا کرتے تھے پھر وہ واپس نہیں لوٹتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا فرما دیتا۔