hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32783

.

ابن أبي شيبة

32783
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۷۸۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی یَزِیدُ الرِّشْکُ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عَلِیًّا ، فَصَنَعَ عَلِیٌّ شَیْئًا أَنْکَرُوہُ ، فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یذکروا أمرہم لرسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانُوا إذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَؤُوا بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَیْہِ وَنَظَرُوا إلَیْہِ ، ثُمَّ یَنْصَرِفُونَ إِلَی رِحَالِہِمْ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِیَّۃُ سَلَّمُوا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَحَدُ الأَرْبَعَۃِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِیًّا صَنَعَ کَذَا وَکَذَا ، فَأَقْبَلَ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْرَفُ الْغَضَبُ فِی وَجْہِہِ ، فَقَالَ : مَا تُرِیدُونَ مِنْ عَلِیٍّ ، مَا تُرِیدُونَ مِنْ عَلِیٍّ ، عَلِیٌّ مِنِّی وَأَنَا مِنْ عَلِی ، وَعَلِیٌّ وَلِیُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِی۔ (ابوداؤد ۸۲۹۔ احمد ۴۳۷)
(٣٢٧٨٤) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور حضرت علی (رض) کو ان پر امیر مقرر کردیا۔ پس حضرت علی (رض) نے کچھ ایسا کام کیا جس کو لوگوں نے ناپسند کیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چار لوگوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اس بات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کریں گے۔ اور یہ لوگ جب سفر سے واپس آگئے تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلانے کا ارادہ کیا۔ پس انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور ان کی طرف دیکھا پھر لوگ اپنے کجاو وں کی طرف پلٹ گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ جب سارے لشکروا لے آگئے ۔ اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سلام کرلیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول 5! آپ کی کیا رائے ہے علی (رض) کے بارے میں کہ انھوں نے یہ کام کیا ہے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ علی (رض) سے کیا چاہتے ہو ؟ ! تم لوگ علی (رض) سے کیا چاہتے ہو ؟ ! علی مجھ سے ہیں اور میں علی (رض) سے ہوں اور علی میرے بعد ہر مومن کے دوست ہیں۔