(۳۲۷۸۵) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَقِیقُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَۃَ، قَالَ : أَتَیْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ بِالْمَدِینَۃِ ، فَقَالَ : ذُکِرَ لِی أَنَّکُمْ تَسُبُّونَ عَلِیًّا ، قَالَ : قَدْ فَعَلْنَا ، قَالَ : فَلَعَلَّک قَدْ سَبَبْتہ ، قَالَ : قُلْتُ : مَعَاذَ اللہِ ، قَالَ : فَلا تَسُبَّہُ ، فَلَوْ وُضِعَ الْمِنْشَارُ عَلَی مَفْرِقِی ، عَلَی أَنْ أَسُبَّ عَلِیًّا ، مَا سَبَبْتہ أَبَدًا ، بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعْتُ۔ (ابویعلی ۷۷۳)
(٣٢٧٨٥) حضرت ابوبکر بن خالد بن عُرْفطہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن مالک (رض) کے پاس مدینہ میں آیا ، تو انھوں نے کہا : مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ تم لوگ حضرت علی (رض) کو گالیاں دیتے ہو ؟ آپ (رض) نے کہا : جی ہاں ! آپ (رض) نے پوچھا : شاید کہ تم بھی ان کو گالیاں دیتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کی پناہ ! آپ (رض) نے فرمایا : تم کبھی ان کو گالی مت دینا۔ پس اگر میرے سر کے درمیان میں آرا رکھ دیا جائے کہ میں حضرت علی (رض) کو گالی دوں ! میں کبھی بھی ان کو گالی نہیں دوں گا اس حدیث کے سننے کے بعد جو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن چکا ہوں۔