(۳۲۷۹۰) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ أَبِی ہَارُونَ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ جَالِسًا إذْ جَائَہُ نَافِعُ بْنُ الأَزْرَقِ فَقَامَ عَلَی رَأْسِہِ ، فَقَالَ : وَاللہِ إنِّی لأَبْغَضُ عَلِیًّا ، قَالَ : فَرَفَعَ إلَیْہِ ابْنُ عُمَرَ رَأْسَہُ ، فَقَالَ : أَبْغَضَک اللَّہُ ، تُبْغِضُ رَجُلاً سَابِقَۃٌ مِنْ سَوَابِقِہِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔
(٣٢٧٩٠) حضرت ابو ہارون (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک نافع بن ازرق آیا، اور آپ (رض) کے سر پر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ اللہ کی قسم ! میں علی (رض) سے بغض رکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنا سر اٹھا کر ارشاد فرمایا : اللہ بھی تجھ سے بغض رکھے اس لیے کہ تو ایسے شخص سے بغض رکھتا ہے جو سبقت لے جانے والا ہے۔ اور دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے۔