(۳۲۷۸۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، قَالَ: حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ سعید ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلْقَمَۃَ الأَنْمَارِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَۃً} ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَی دِینَار ، قُلْتُ : لاَ یُطِیقُونَہُ ، قَالَ : فَکَمْ قُلْت : شَعِیرَۃٌ ، قَالَ: إنَّک لَزَہِیدٌ، قَالَ: فَنَزَلَتْ : {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَاتٍ} الآیَۃَ ، قَالَ : فبی خَفَّفَ اللَّہُ عَنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ۔
(ترمذی ۳۳۰۰۔ ابن حبان ۶۹۴۲)
(٣٢٧٨٩) حضرت علی بن علقمہ انماری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : جب یہ آیت اتری ! اے ایمان والو ! جب تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدگی میں بات کرنا چاہو تو تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ کیا ایک دینار میں کافی ہے ؟ میں نے عرض کیا : لوگ اتنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو کتنا ہونا چاہیے ؟ میں نے عرض کیا تھوڑے سے جَو مقرر کردیے جائیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً یہ تو بہت ہی کم ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں۔ اتنے میں دوسری آیت اتری گئی : ترجمہ : کیا تم لوگ ڈر گئے اس بات سے کہ پیش کرو اپنی علیحدگی کی گفتگو سے پہلے صدقات ؟ الایۃ۔ آپ (رض) نے فرمایا : پس میری وجہ سے اللہ نے اس امت پر آسانی فرما دی۔