hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32943

.

ابن أبي شيبة

32943
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۹۴۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی الضَّحَّاکِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ : حُدِّثْنَا أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ صَفْوَانَ وَآخَرَ مَعَہُ أَتَیَا عَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا فُلانُ ہَلْ سَمِعْت حَدِیثَ حَفْصَۃَ ، فَقَالَ : نَعَمْ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، فَقَالَ لَہَا عَبْدُ اللہِ بْنُ صَفْوَانَ : وَمَا ذَاکَ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَتْ : خِلالٌ فِی تِسْعٌ لَمْ تَکُنْ فِی أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ إلاَّ مَا آتَی اللَّہُ مَرْیَمَ ابْنَۃَ عِمْرَانَ ، وَاللہِ مَا أَقُولُ ہَذَا أَنِّی أَفْتَخِرُ عَلَی صَوَاحِبِی ، قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ صَفْوَانَ : وَمَا ہِیَ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَتْ : نَزَلَ الْمَلَکُ بِصُورَتِی ، وَتَزَوَّجَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِسَبْعِ سِنِینَ ، وَأُہْدِیت إلَیْہِ لِتِسْعِ سِنِینَ ، وَتَزَوَّجَنِی بِکْرًا لَمْ یُشْرِکْہُ فِیَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَأَتَاہُ الْوَحْیُ وَأَنَا وَإِیَّاہُ فِی لِحَافٍ وَاحِدٍ ، وَکُنْت مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إلَیْہِ ، وَنَزَلَ فِی آیَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ کَادَتِ الأُمَّۃُ تَہْلِکُ فِیہِنَ ، وَرَأَیْت جِبْرِیلَ وَلَمْ یَرَہُ أَحَدٌ مِنْ نِسَائِہِ غَیْرِی ، وَقُبِضَ فِی بَیْتِی لَمْ یکن أَحَدٌ غَیْرُ الْمَلَکِ وَأَنَا۔ (بخاری ۱۰۹۶۔ حاکم ۱۰)
(٣٢٩٤٤) حضرت عبد الرحمن بن محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن صفوان اور ان کے ساتھ ایک دوسرا آدمی یہ دونوں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اے فلاں ! کیا تو نے حضرت حفصہ (رض) کی حدیث سنی ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! ام المؤمنین، اس پر حضرت عبداللہ بن صفوان (رض) نے ان سے پوچھا : اے ام المؤمنین ! وہ حدیث کیا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : مجھ میں نو خصلتیں ایسی ہیں جو لوگوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں۔ سوائے ان کے جو اللہ نے حضرت مریم بنت عمران کو عطا فرمائیں۔ اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں کہتی کہ میں اپنی ساتھیوں پر فخر کرتی ہوں عبداللہ بن صفوان نے پوچھا : اے ام المؤمنین ! وہ خصلتیں کیا ہیں ؟
آپ (رض) نے فرمایا : فرشتہ میری تصویر لے کر اترا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے شادی کی جب کہ میں سات سال کی تھی اور مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا نو سال کی عمر میں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف مجھ باکرہ سے شادی کی۔ اور اس میں میرا کوئی بھی شریک نہیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وحی آتی اس حال میں کہ میں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی بستر میں ہوتے۔ اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور میرے بارے میں قرآن کی چند آیات اتریں۔ اور قریب تھا کہ امت ان کے بارے میں ہلاک کردی جاتی۔ اور میں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اور میرے علاوہ کسی عورت نے بھی ان کو نہیں دیکھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال میرے گھر میں ہوا جہاں میرے اور فرشتہ کے سوا کوئی نہیں تھا۔