(۳۲۹۴۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ مجالد ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِی عَائِشَۃُ ، قَالَتْ : بَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِی الْبَیْتِ إذْ دَخَلَ الْحُجْرَۃَ عَلَیْنَا رَجُلٌ عَلَی فَرَسٍ فَقَامَ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی مَعْرَفَۃِ الْفَرَسِ فَجَعَلَ یُکَلِّمُہُ ، قَالَتْ : ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ مَنْ ہَذَا الَّذِی کُنْتَ تُنَاجِی ، قَالَ : وَہَلْ رَأَیْت أَحَدًا ، قَالَتْ : قُلْتُ : نَعَمْ ، رَأَیْت رَجُلاً عَلَی فَرَسٍ ، قَالَ : بِمَنْ شَبَّہْتہ ، قَالَتْ : بِدِحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ ، قَالَ : ذَاکَ جِبْرِیلُ ، قَالَ : قَدْ رَأَیْت خَیْرًا : قَالَت : ثُمَّ لَبِثْت مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یلْبَثَ فَدَخَلَ جِبْرِیلُ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْحُجْرَۃِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عَائِشَۃُ ، قُلْتُ : لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : ہَذَا جِبْرِیلُ وَقَدْ أَمَرَنِی أَنْ أُقْرِئَک مِنْہُ السَّلاَمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : أَرْجِعْ إلَیْہِ مِنِّی السَّلامَ وَرَحْمَۃَ اللہِ وَبَرَکَاتِہِ ، جَزَاک اللَّہُ مِنْ دَخِیلٍ خَیْرَ مَا یَجْزِی الدُّخَلائَ ، قَالَتْ : وَکَانَ یَنْزِلُ الْوَحْیُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَہُوَ فِی لِحَافٍ وَاحِدٍ۔ (طبرانی ۹۵۔ حمیدی ۲۷۷)
(٣٢٩٤٥) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے مجھے خبر دی کہ اس درمیان کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں بیٹھے ہوئے تھے ایک گھوڑے پر سوار آدمی حجرے میں ہم پر داخل ہوا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر اس کی طرف گئے اور اپنا ہاتھ گھوڑے کی گردن پر رکھا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے بات کرنا شروع کردی۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹے۔ تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول 5! یہ کون شخص تھا جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرگوشی فرما رہے تھے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے کسی کو دیکھا ؟ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : جی ہاں ! میں نے ایک آدمی کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو نے اس شخص کو کس کے مشابہہ پایا ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : حضرت دحیہ کلبی (رض) کے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے تحقیق تو نے خیر کی بات دیکھی۔
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں۔ پھر وہ ٹھہرے جب تک اللہ نے چاہا کہ وہ ٹھہریں۔ پس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) داخل ہوئے اس حال میں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرے میں تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ (رض) ! میں نے کہا : میں حاضر ہوں : اے اللہ کے رسول 5! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، تحقیق انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان کی طرف سے سلام کہوں۔ میں نے کہا : آپ بھی میری طرف سے ان کو کہہ دیں، اللہ کی سلامتی ، رحمت ہو اور برکتیں ہوں۔ اللہ مہمان کو جو تمام داخل ہونے والے مہمانوں میں سب سے بہتر مہمان ہے بہترین بدلہ عطا فرمائے ۔ آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی اترتی تھی۔ اس حال میں کہ میں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی بستر میں ہوتے ۔