(۳۲۹۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، قَالَ : لَمَّا سَارَ عَلِیٌّ إلَی صِفِّینَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَی النَّاسِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ عَلِیٌّ ، قَالَ لَہُ : أَنْتَ الْقَائِلُ مَا بَلَغَنِی عَنْک یَا فَرُّوخُ ، إنَّک شَیْخٌ قَدْ ذَہَبَ عَقْلُک ، قَالَ : أَذَہَبَ عَقْلِی وَقَدْ وَجَبَتْ لِی الْجَنَّۃُ فِی اللہِ وَرَسُولِہِ ، أَنْتَ تَعْلَمُہُ۔
(٣٢٩٦٨) حضرت عبد العزیز بن رفیع (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی (رض) جنگ صفین میں جانے لگے تو حضرت ابو مسعود (رض) کو لوگوں پر خلیفہ بنادیا۔ پس جب حضرت علی (رض) واپس لوٹے تو ان سے فرمایا : کیا تو نے وہ بات کی ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے اے فروخ ؟ ! یقیناً تم بوڑھے ہو تحقیق تمہاری عقل چلی گئی ۔ آپ (رض) نے فرمایا : کیا میری عقل چلی گئی۔ پھر اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطابق میرے لیے جنت واجب ہوگئی تم اس کو بہتر جانتے ہو۔