(۳۳۰۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : اشْتَرَی أَبُو بَکْرٍ بِلاَلاً بِخَمْسِ أَوَاقٍ ، ثُمَّ أَعْتَقَہُ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ بِلاَلٌ : یَا أَبَا بَکْرٍ إِنْ کُنْتَ إنَّمَا أَعْتَقْتنِی لِتَتَّخِذَنِی خَازِنًا ، فَاتَّخِذْنِی خَازِنًا وَإِنْ کُنْت إنَّمَا أَعْتَقْتنِی لِلَّہِ فَدَعَنْی فَأَعْمَلُ لِلَّہِ ، قَالَ : فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : بَلْ أَعْتَقْتُک لِلَّہِ۔ (بخاری ۳۷۵۵)
(٣٣٠٠٢) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت بلال کو پانچ اوقیہ چاندی کے عوض خریدا پھر آزاد کردیا۔ اس پر حضرت بلال (رض) نے ان سے کہا : اگر تم نے مجھے اس لیے آزاد کیا کہ تم مجھے اپنا خزانچی بنا لو، پس تم مجھے چاہو تو خزانچی بنا لو، اور اگر تم نے مجھے آزاد کیا ہے اللہ کے لیے تو مجھے فارغ چھوڑ دو تاکہ میں اللہ کے لیے عمل کروں۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت ابوبکر (رض) یہ سن کر رو پڑے پھر فرمایا : بلکہ میں نے تمہیں اللہ کے لیے آزاد کردیا۔