(۳۳۰۰۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَشْخَشَۃً أَمَامِی فَقُلْت ، مَنْ ہَذَا ، قَالُوا : بِلاَلٌ ، فَأَخْبَرَہُ، قَالَ : بِمَا سَبَقْتَنِی إلَی الْجَنَّۃِ ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ مَا أَحْدَثْتُ إلاَّ تَوَضَّأْتُ ، وَلاَ تَوَضَّأْت ، إلاَّ رَأَیْت أَنَّ لِلَّہِ عَلَیَّ رَکْعَتَیْنِ أُصَلِّیہِمَا قَالَ : بِہَا۔ (ابن حبان ۷۰۸۷۔ ابن خزیمۃ ۱۲۰۹)
(٣٣٠٠١) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے آگے آہٹ کی آواز سنی تو میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ فرشتوں نے کہا : بلال (رض) ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کی خبر حضرت بلال (رض) کو دی اور پوچھا : کس عمل کی وجہ سے تم مجھ پر سبقت لے گئے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! مجھے کبھی حدث لاحق نہیں ہوا مگر میں نے وضو کرلیا ۔ اور میں نے کبھی وضو نہیں کیا مگر یہ کہ میں نے سوچا کہ بیشک اللہ کا مجھ پر حق ہے دو رکعتوں کا، میں نے ان کو پڑھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی وجہ سے ۔