(۳۳۰۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ یَذْکُرُ قُرَیْشًا ، وَمَا جَمَعَتْ وَجَعَلَ یَتَوَعَّدُہُ بِہِمْ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَأْبَی ذَلِکَ عَلَیْک بَنُو قَیْلَۃَ ، إنَّہُمْ قَوْمٌ فِی حَدِّہِمْ فَرْطٌ۔
(٣٣٠٣٣) حضرت عاصم بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اور قریش اور ان کی جمعیت کا ذکر کر کے ان کی طرف سے دھمکیاں دینے لگا۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ارشاد فرمایا : قبیلہ اوس اور خزرج والے تیرے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور بیشک یہ ایسی قوم ہیں کہ جن کے غصہ کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔