(۳۳۱۴۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ، قَالَ سَمِعْت عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ أَبِی بَکْرَۃَ یُحَدِّثُ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَائَ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنَّمَا بَایَعَک سُرَّاقُ الْحَاجِّ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارٍ وَمُزَیْنَۃَ وَأَحْسِبُ جُہَیْنَۃَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَرَأَیْت إِنْ کَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَأَحْسِبُ جُہَیْنَۃَ خَیْرًا مِنْ بَنِی تَمِیمٍ وَمِنْ بَنِی عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ أخَابُوا وَخَسِرُوا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إنَّہُمْ لأَخْیَرُ مِنْہُمْ۔ (بخاری ۳۵۱۶۔ مسلم ۱۹۵۵)
(٣٣١٤٥) حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ (رض) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد حضرت ابو بکرہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت اقرع بن حابس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبیلہ اسلم ، غفار، مزینہ۔۔۔ راوی کہتے ہیں۔۔۔ میرا گمان ہے کہ قبیلہ جھینہ بھی کہا۔۔۔ کے چوروں نے بیعت کی۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تیری کیا رائے ہے اگر قبیلہ اسلم، اور غفار، اور جھینہ والے قبیلہ بنو تمیم اور بنو عامر ، اسد اور غطفان والوں سے بہتر ہوں تو کیا وہ لوگ خسارے اور نقصان میں نہیں ؟ آپ (رض) نے کہا : جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے یقیناً یہ ان سے بہتر ہیں۔