(۳۳۲۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عامر ، عن مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: مَا مِنْ حَکَمٍ یَحْکُمُ بَیْنَ النَّاسِ إِلاَّ حُشِرَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَلَکٌ آخِذٌ بِقَفَاہُ حَتَّی یَقِفَ بِہِ عَلَی جَہَنَّمَ ، ثُمَّ یَرْفَعُ رَأْسَہُ إلَی الرَّحْمَان ، فَإِنْ قَالَ لَہُ : اطْرَحْہُ ، طَرَحَہُ فِی مَہْوَی أَرْبَعِینَ خَرِیفًا ، قَالَ : وَقَالَ مَسْرُوقٌ : لأَنْ أَقْضِیَ یَوْمًا وَاحِدًا بِعَدْلٍ وَحَقٍّ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ سَنَۃٍ أَغْزُوہَا فِی سَبِیلِ اللہِ۔
(٣٣٢١٢) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : کوئی فیصلہ کرنے والا لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کا ایسا حشر کیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اس کو گردن سے پکڑے گا یہاں تک کہ اس کو جہنم کے کنارے لا کر کھڑا کر دے گا۔ پھر اپنا سر رحمن کی طرف اٹھائے گا۔ اگر رحمن اس کو کہہ دے اس کو جہنم میں ڈال دو ۔ تو وہ اس کو چالیس سال کی مسافت کے برابر جہنم کی گہرائی میں ڈال دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت مسروق (رض) نے ارشاد فرمایا : میرے نزدیک ایک دن عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں ایک سال جہاد کروں۔