(۳۳۲۳۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ سَلْمَانُ عَلَی قَبْضٍ مِنْ قَبْضِ الْمُہَاجِرِینَ ، فَجَائَ إلَیْہِ رَجُلٌ بِقَبْضٍ کَانَ مَعَہُ فَدَفَعَہُ إلَیْہِ ، ثُمَّ أَدْبَرَ فَرَجَعَ إلَیْہِ فَقَالَ : یَا سَلْمَانُ ، إِنَّہُ کَانَ فِی ثَوْبِی خَرْقٌ فَأَخَذْت خَیْطًا مِنْ ہَذَا الْقَبْضِ فَخِطْت بِہِ ، قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ وَقَدْرُہُ ، قَالَ : فَجَائَ الرَّجُلُ فَنَشَرَ الْخَیْطَ مِنْ ثَوْبِہِ ، ثُمَّ قَالَ : إنِّی غَنِیٌّ عَنْ ہَذَا۔
(٣٣٢٣٣) حضرت قابوس (رض) کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان (رض) مہاجرین کے مال مقبوض میں سے جو کہ غنیمت سے حاصل ہوا تھا اس کے کچھ حصہ پر نگران تھے۔ تو ان کے پاس ایک آدمی آیا جس کے پاس کچھ مال غنیمت کا مال تھا اس نے وہ مال آپ (رض) کو دیا پھر واپس چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر واپس لوٹا اور کہنے لگا : اے سلمان ! یقیناً میرے کپڑے میں تھوڑی سی پھٹن تھی تو میں نے اس غنیمت کے مال میں سے سوئی لے کر اس سے اس کپڑے کو سی لیا۔ انھوں نے کہا : ہر چیز کی کچھ قدروقیمت ہے پس وہ آدمی آیا اور اس نے اپنے کپڑوں سے ایک سوئی نکالی پھر کہا : میں اس سے بھی بےنیاز ہوں۔