(۳۳۴۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِیٌّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ أَمِیرًا عَلَی مِصْرَ فَکَتَبَ إلَی عَلِیٍّ یَسْأَلُہُ عَنْ زَنَادِقَۃٍ ، مِنْہُمْ مَنْ یَعْبُدُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَعْبُدُ غَیْرَ ذَلِکَ وَمِنْہُمْ مَنْ یَدَّعِی الإِسْلاَمَ فَکَتَبَ إلَیْہِ وَأَمَرَہُ فِی الزَّنَادِقَۃِ أَنْ یَقْتُلَ مَنْ کَانَ یَدَّعِی الإِسْلاَمَ ، وَیَتْرُکَ سَائِرَہُمْ یَعْبُدُونَ مَا شَاؤُوا۔
(٣٣٤١٠) حضرت مخارق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بن ابی طالب نے محمد بن ابی بکر کو مصر والوں پر امیر بنا کر بھیجا۔ تو انھوں نے حضرت علی (رض) سے خط لکھ کر زنادقہ کے بارے میں سوال کیا۔ جن میں سے کچھ سورج اور چاند کی پرستش کرتے تھے۔ اور ان میں سے کچھ اس کے علاوہ چیزوں کی پرستش کرتے تھے اور کچھ اسلام کا دعویٰ کرتے تھے ؟ حضرت علی (رض) نے ان کو خط لکھا ار زنادقہ کے بارے میں ان کو حکم دیا کہ جو تو اسلام کا دعویٰ کرے اس کو قتل کردو، اور باقی سب کو چھوڑ دو وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔