(۳۳۴۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ یَطْرُقُ فَرَسًا لَہُ فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِی حَنِیفَۃَ فَصَلَّی فِیہِ فَقَرَأَ لَہُمْ إمَامُہُمْ بِکَلاَمِ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابِ ، فَأَتَی ابْنُ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَہُ فَبَعَثَ إلَیْہِمْ فَجَائَ بِہِمْ ، فَاسْتَتَابَہُمْ فَتَابُوا إِلاَّ عَبْدَ اللہِ ابْنَ النَّوَّاحَۃِ فَأَنَّہُ قَالَ لَہُ : یَا عَبْدَ اللہِ لولا أَنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : لَوْلاَ أَنَّکَ رَسُولٌ لَضَرَبْت عُنُقَک ، فَأَمَّا الْیَوْمَ فَلَسْت بِرَسُولٍ ، یَا خَرَشَۃُ قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ فَقَامَ فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔ (ابوداؤد ۲۷۵۶۔ احمد ۳۸۴)
(٣٣٤١١) حضرت حارثہ بن مضرب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نکلا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا پھر وہ بنو حنیف قبیلہ کی مسجد کے پاس سے گزرا۔ اور اس میں نماز ادا کی۔ تو ان لوگوں کے امام نے مسیلمہ کذاب کے کلام کی تلاوت کی ! یہ شخص حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں آیا اور آپ (رض) کو اس بات کی خبر دی۔ آپ (رض) نے قاصد بھیج کر ان لوگوں کو بلایا۔ ان سب لوگوں کو لایا گیا ۔ پھر آپ (رض) نے ان سب سے توبہ کروائی۔ ان سب نے توبہ کرلی سوائے عبداللہ بن نوَّاحہ کے۔ آپ (رض) نے اس سے فرمایا : اے عبداللہ ! اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ” اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا۔ “ لیکن آج تو قاصد نہیں ہے۔ اے خَرَشہ ! اٹھو اور اس کی گردن مار دو ۔ پس خرشہ اٹھے اور انھوں نے اس کی گردن مار دی۔