(۳۳۴۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: إنِّی مَرَرْت بِمَسْجِدِ بَنِی حَنِیفَۃَ فَسَمِعْت إمَامَہُمْ یَقْرَأُ بِقِرَائَۃٍ مَا أَنْزَلَہَا اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتہ یَقُولُ : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا فَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا فَالْخَابِزَاتُ خَبْزًا فَالثَّارِدَاتُ ثَرْدًا فَاللاَقِمَاتُ لَقْمًا قَالَ : فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللہِ فَأَتَی بِہِمْ سَبْعِینَ وَمِئَۃَ رَجُلٍ عَلَی دِینِ مُسَیْلِمَۃَ إمَامُہُمْ عبْدُ اللہِ ابْنِ النَّوَّاحَۃِ ، فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ ، ثُمَّ نَظَرَ إلَی بَقِیَّتِہِمْ ، فَقَالَ : مَا نَحْنُ بِمُجْزِرِی الشَّیْطَانِ ہَؤُلاَئِ ، سَائِرُ الْقَوْمِ رَحِّلُوہُمْ إلَی الشَّامِ لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یفنیہم بِالطَّاعُونِ۔ (عبدالرزاق ۱۸۷۰۸)
(٣٣٤١٢) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بیشک میں بنو حنیفہ قبیلہ والوں کی مسجد کے قریب سے گزرا۔ تو میں نے ان کے امام کو سنا کہ اس نے اس قرآن میں تلاوت کی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا۔ پھر میں نے اس کو سنا کہ وہ یہ کلمات پڑھ رہا ہے : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا فَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا فَالْخَابِزَاتُ خَبْزًا فَالثَّارِدَاتُ ثَرْدًا فَاللاَقِمَاتُ لَقْمًا ! ! ! راوی کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ان کی طرف قاصد بھیجا۔ پھر ان لوگوں کو لایا گیا۔ ایک سو ستر آدمی مسیلمہ کے دین پر تھے۔ اور ان کا امام عبداللہ بن النواحہ تھا۔ آپ (رض) نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا۔ پھر آپ (رض) نے باقی لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : ہم ان کو قتل کر کے شیطان کو خوش نہیں کریں گے۔ ان سب لوگوں کو شام کی طرف لے جاؤ۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کو طاعون کے ذریعے ختم فرما دیں۔