(۳۳۴۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ :لَمَّا قَدِمَ عَلَی عُمَرَ فَتْحُ تُسْتَرَ وَتُسْتَرُ مِنْ أَرْضِ الْبَصْرَۃِ سَأَلَہُمْ : ہَلْ مِنْ مُغَرِّبَۃٍ ، قَالُوا : رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ لَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ فَأَخَذْنَاہُ ، قَالَ : مَا صَنَعْتُمْ بِہِ ، قَالُوا : قَتَلْنَاہُ ، قَالَ : أَفَلاَ أَدْخَلْتُمُوہُ بَیْتًا وَأَغْلَقْتُمْ عَلَیْہِ بَابًا وَأَطْعَمْتُمُوہُ کُلَّ یَوْمٍ رَغِیفًا ، ثُمَّ اسْتَتَبْتُمُوہُ ثَلاَثًا فَإِنْ تَابَ وَإِلاَّ قَتَلْتُمُوہُ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ لَمْ أَشْہَدْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إذَا بَلَغَنِی ، أَوَ قَالَ : حِینَ بَلَغَنِی۔
(٣٣٤٢٤) حضرت عبد الرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس تستر کی فتح کی خبر لائی گئی ۔۔۔ تستر یہ بصرہ کا ایک علاقہ ہے ۔۔۔ آپ (رض) نے ان لوگوں سے پوچھا : دور دراز کی کیا خبر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مسلمانوں کا ایک آدمی تھا۔ جو مشرکین سے جا ملا۔ ہم نے اس کو پکڑ لیا۔ آپ (رض) نے پوچھا : کہ تم نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم نے اس کو قتل کردیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم نے اسے کسی گھر میں داخل کیوں نہ کیا اور پھر تم اس پر دروازہ بند کردیتے یعنی اس کو قید کردیتے اور تم اسے روزانہ تھوڑا سا کھانا دیتے پھر تین مرتبہ اس سے توبہ طلب کرتے پھر اگر وہ توبہ کرلیتا تو ٹھیک ورنہ تم اسے قتل کردیتے ؟ ! پھر آپ (رض) نے فرمایا : اے اللہ ! میں نہ ان پر گواہ ہوں اور نہ میں نے ان کو حکم دیا اور جب مجھے اس بات کی خبر ملی تو میں اس پر خوش نہ ہوا۔