hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33457

.

ابن أبي شيبة

33457
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۴۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ عَطَائً کَانَ یَقُولُ : لَوْ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَتَلَ رَجُلاً ، ثُمَّ کَفَرَ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ ، فَکَانَ فِیہِمْ ، ثُمَّ رَجَعَ تَائِبًا قُبِلَتْ تَوْبَتُہُ مِنْ شِرْکِہِ ، وَأُقِیمَ عَلَیْہِ الْقِصَاصُ ، وَلَوْ أَنَّہُ لَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ وَلَمْ یُقْتَلْ فَکَفَرَ ، ثُمَّ قَاتَلَ الْمُسْلِمِینَ فَقَتَلَ مِنْہُمْ ، ثُمَّ جَائَ تَائِبًا قُبِلَ مِنْہُ وَلَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔
(٣٣٤٥٨) حضرت قیس بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) یوں فرمایا کرتے تھے : اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی آدمی کو قتل کر دے پھر کفر اختیار کرلے اور مشرکین سے جا ملے اور ان میں رہے ۔ پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آئے۔ شرک سے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اور اس پر حدِّ قصاص قائم کی جائے گی۔ اور اگر کوئی مشرکین سے جا ملے اس حال میں کہ اس نے قتل تو نہیں کیا صرف کفر اختیار کیا پھر مسلمانوں سے قتال کیا اور کچھ مسلمانوں کو شہید بھی کیا پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آیا تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔