(۳۳۴۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : کَانَ حَارِثَۃُ بْنُ بَدْرٍ التَّمِیمِیُّ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ قَدْ أَفْسَدَ فِی الأَرْضِ وَحَارَبَ ، فَکَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ ، وَابْنَ جَعْفَرٍ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ وَغَیْرَہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَکَلَّمُوا عَلِیًّا فَلَمْ یُؤَمِّنْہُ ، فَأَتَی سَعِیدَ بْنَ قَیْسٍ الْہَمْدَانِیَّ فَکَلَّمَہُ ، فَانْطَلَقَ سَعِیدٌ إلَی عَلِیٍّ وَخَلَفَہُ فِی مَنْزِلِہِ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، کَیْفَ تَقُولُ فِیمَنْ حَارَبَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَسَعَی فِی الأَرْضِ فَسَادًا فَقَرَأَ (إنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ) حَتَّی قَرَأَ الآیَۃَ کُلَّہَا ، فَقَالَ سَعِید ، أَفَرَأَیْت مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ نَقْدِرَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : أَقُولُ کَمَا قَالَ وَیُقْبَلُ مِنْہُ ، قَالَ : فَإِنَّ حَارِثَۃَ بْنَ بَدْرٍ قَدْ تَابَ قَبْلَ أَنْ یُقْدِرَ عَلَیْہِ ، فَبَعَثَ إلَیْہِ فَأَدْخَلَہُ عَلَیْہِ فَأَمَّنَہُ وَکَتَبَ لَہُ کِتَابًا ، فَقَالَ حَارِثَۃُ :
أَلاَ أُبَلِّغَنْ ہَمْدَانَ إمَّا لَقِیتہَا
لَعَمْرُ أَبِیک إنَّ ہَمْدَانَ تَتَّقِی
شیب رَأْسِی وَاسْتَخَفَّ حُلُومَنَا
سَلاَمًا فَلاَ یَسْلَمْ عَدُوٌّ یَعِیبُہَا
الإِلَہَ وَیَقْضِی بِالْکِتَابِ خَطِیبُہَا
رُعُودُ الْمَنَایَا حَوْلَنَا وَبُرُوقُہَا
وَإِنَّا لَتَسْتَحْلِی الْمَنَایَا نُفُوسُنَا
وَنَتْرُکُ أُخْرَی مُرَّۃً مَا نَذُوقُہَا
قالَ ابْنُ عَامِرٍ : فَحَدَّثْت بِہَذَا الْحَدِیثِ ابْنُ جَعْفَرٍ ، فَقَالَ : نَحْنُ کُنَّا أَحَقَّ بِہَذِہِ الأَبْیَاتِ مِنْ ہَمْدَانَ۔
(٣٣٤٥٩) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حارثہ بن بدر التمیمی اہل بصرہ میں سے تھا اس نے زمین میں فساد پھیلایا اور جنگ کی ۔ پھر اس نے حضرت حسن بن علی (رض) ، حضرت ابن جعفر (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) اور قریش کے چند افراد سے امان کے بارے میں بات چیت کی ۔ ان لوگوں نے حضرت علی (رض) سے بات کی تو آپ (رض) نے اس کو امان نہیں دی۔ پس حارثہ بن بدر حضرت سعید بن قیس الھمدانی (رض) کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں بات کی۔ تو حضرت سعید (رض) حضرت علی (رض) کے پاس گئے اور اس کو پیچھے اپنے گھر میں چھوڑ دیا۔ اور فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ (رض) کیا فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرے ؟ آپ (رض) نے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے میں بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ (رض) نے مکمل آیت تلاوت فرمائی۔ اس پر حضرت سعید نے فرمایا : آپ (رض) کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جو خود پر قابو دینے سے پہلے ہی توبہ کرلے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں وہی کہوں گا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس سے توبہ قبول کی جائے گی۔ آپ (رض) نے فرمایا : بیشک حارثہ بن بدر نے خود پر قابو دینے سے پہلے توبہ کی۔ پھر آپ (رض) نے اس کو بلانے کے لیے قاصد بھیجا ۔ پس اس کو حضرت علی (رض) کے سامنے لایا گیا ۔ آپ (رض) نے اس کو امان دی اور اس کے لیے ایک تحریر لکھ دی۔ اس پر حارثہ نے یہ اشعار کہے : میری طرف سے ہمدان کو سلام پہنچاؤ جب تم وہاں پہنچو، اس کا دشمن سالم نہ رہے۔ یقینی طور پر ہمدان کے لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کا خطیب کتاب اللہ سے فیصلہ کرتا ہے۔ میرا سر سفید ہوگیا اور ہماری عقلیں ماند پڑگئیں۔ ہمارے اردگرد کی کڑک اور چمک سے۔ ہمارے نفوس موت کو شیریں سمجھتے ہیں۔ جبکہ زندگی کو ہم کڑوا سمجھتے ہیں۔
حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابن جعفر (رض) کے سامنے ذکر کی تو آپ (رض) نے فرمایا : ہم ھمدان والوں سے ان اشعار کے زیادہ حقدار تھے۔