(۳۳۵۶۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ أَرَادَ أَنْ یَفْرِضَ لِلنَّاسِ ، وَکَانَ رَأْیُہُ خَیْرًا مِنْ رَأْیِہِمْ ، فَقَالُوا : ابْدَأْ بِنَفْسِکَ ، فَقَالَ : لاَ ، فَبَدَأَ بِالأَقْرَبِ فَالأَقْرَبِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَفَرَضَ لِلْعَبَّاسِ ، ثُمَّ عَلِیٍّ حَتَّی وَالَی بَیْنَ خَمْسِ قَبَائِلَ حَتَّی انْتَہَی إلَی بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ۔
(٣٣٥٦٦) حضرت جعفر کے والد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کے لیے عطیہ مقرر کرنے کا ارادہ فرمایا : اور آپ (رض) کی رائے ان سب لوگوں کی رائے سے بہتر تھی۔ لوگوں نے کہا : آپ (رض) اپنے آپ سے ابتدا کریں۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! پھر آپ (رض) نے ابتدا کی ان لوگوں سے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رشتہ میں قریب تھے اور پھر جو ان کے بعد قریب تھے۔ آپ (رض) نے حضرت عباس (رض) کا حصہ مقرر فرمایا۔ پھر حضرت علی (رض) کا یہاں تک کہ آپ (رض) نے پانچ قبیلوں کے درمیان لگا تار حصہ مقرر فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ (رض) قبیلہ بنو عدی تک پہنچے۔