hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33566

.

ابن أبي شيبة

33566
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۵۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ فِی الْجَابِیَۃِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ عَنِ الْقُرْآنِ فَلْیَأْتِ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ ، عَنِ الْفَرَائِضِ فَلْیَأْتِ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ ، عَنِ الْفِقْہِ فَلْیَأْتِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ ، عَنِ الْمَالِ فَلْیَأْتِنِی فَإِنَّ اللَّہَ جَعَلَنِی خَازِنًا وَقَاسِمًا أَلاَ وَإِنِّی بَادِئٌ بِالْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ أَنَا وَأَصْحَابِی فَنُعْطِیہِمْ ، ثُمَّ بَادِئٌ بِالأَنْصَارِ الَّذِینَ تَبُوؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ فَنُعْطِیہِمْ ، ثُمَّ بَادِئٌ بِأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنُعْطِیہِنَ ، فَمَنْ أَسْرَعَتْ بِہِ الْہِجْرَۃُ أَسْرَعَ بِہِ الْعَطَائُ ، وَمِنْ أَبْطَأَ عَنِ الْہِجْرَۃِ أَبْطَأَ بِہِ الْعَطَائُ ، فَلاَ یَلُومَن أَحَدُکُمْ إِلاَّ مُنَاخَ رَاحِلَتِہِ۔
(٣٣٥٦٧) حضرت عُلَی بن رباح (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے جابیہ کے مقام پر لوگوں سے خطاب فرمایا : پس آپ (رض) نے اللہ کی حمدو ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ وہ قرآن کے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت ابیّ بن کعب (رض) کی خدمت میں آئے ۔ اور جو چاہتا ہے کہ وہ وراثت کے حصوں کے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت زید بن ثابت (رض) کی خدمت میں آئے۔ اور جو شخص چاہتا ہے کہ وہ فقہ سے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی خدمت میں آئے اور جو شخص چاہتا ہے وہ مال سے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ میرے پاس آئے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے خزانچی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے۔ خبردار میں سب سے پہلے مہاجرین اولین سے ابتدا کروں گا۔ میں اور میرے اصحاب ان کو عطایا دیں گے۔ پھر میں انصار سے ابتدا کروں گا جنہوں نے ایمان کو جگہ فراہم کی اور ایمان پر قائم رہے۔ پس میں اور میرے اصحاب ان کو عطایا دیں گے۔ پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات سے ابتدا کروں گا اور ان کو عطایا دوں گا۔ اور جس نے ہجرت میں جلدی کی تو عطیہ بھی اس کی طرف جلدی کرے گا ۔ اور جو ہجرت میں سست ہوا تو عطیہ میں بھی سستی ہوگی۔ تم میں کوئی ہرگز ملامت نہیں کرے گا مگر اپنی سواری کے بیٹھنے کی جگہ پر۔