(۳۳۵۷۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَیَّانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عُمَرَ أُتِیَ مِنْ جَلُولاَئَ بِسِتَّۃِ آلاَفِ أَلْفٍ فَفَرَضَ الْعَطَائَ فَاسْتَشَارَ فِی ذَلِکَ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ : ابْدَأْ بِنَفْسِکَ ، فَأَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِکَ قَالَ : لاَ ، بَلْ أَبْدَأُ بِالأَقْرَبِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا حَتَّی یَنْتَہِیَ ذَلِکَ إلَیَّ ، قَالَ : فَبَدَأَ فَفَرَضَ لِعَلِیٍّ فِی خَمْسَۃِ آلاَفٍ ، ثُمَّ لِبَنِی ہَاشِمٍ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا ، ثُمَّ لِمَوَالِیہِمْ، ثُمَّ لِحُلَفَائِہِمْ ، ثُمَّ الأَقْرَبِ فَالأَقْرَبِ حَتَّی یَنْتَہِی ذَلِکَ إلَیْہِ۔
(٣٣٥٧٠) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس حلولاء مقام سے چھ لاکھ آئے ۔ تو آپ (رض) نے عطیات مقرر کرنا چاہے۔ تو اس بارے میں مشورہ مانگا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : آپ (رض) خود سے ابتدا کریں۔ آپ (رض) اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ابتدا کروں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان قریبی رشتہ داروں سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ مجھ تک پہنچ جائے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (رض) نے حضرت علی (رض) سے ابتدا فرمائی اور ان کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ پھر بنو ہاشم میں سے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا۔ پھر ان کے غلاموں کے لیے پھر ان کے حلیفوں کے لیے۔ پھر اقرب فالاقرب کے اعتبار سے۔ یہاں تک کہ یہ معاملہ آپ (رض) تک پہنچ گیا۔