(۳۳۵۷۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ أَبِی صِدِّیقًا لِقَنْبَرٍ ، قَالَ : انْطَلَقْت مَعَ قَنْبَرٍ إلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قُمْ مَعِی ، قَدْ خَبَّأْت لَکَ خَبِیئَۃً ، فَانْطَلَقَ مَعَہُ إلَی بَیْتِہِ، فَإِذَا أَنَا بِسِلَّۃٍ مَمْلُوئَۃٍ جَامَاتٍ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنَّک لاَ تَتْرُکُ شَیْئًا إِلاَّ قَسَمْتہ ، أَوْ أَنْفَقْتہ ، فَسَلَّ سَیْفَہُ ، فَقَالَ : وَیْلَک ، لَقَدْ أَحْبَبْت أَنْ تُدْخِلَ بَیْتِی نَارًا کَبِیرَۃً ، ثُمَّ اسْتَعْرَضَہَا بِسَیْفِہِ فَضَرَبَہَا فَانْتَثَرَتْ بَیْنَ إنَائٍ مَقْطُوعٍ نِصْفُہُ وَثُلُثُہُ ، قَالَ : عَلَیَّ بِالْعُرَفَائِ فَجَاؤُوا ، فَقَالَ : اقْسِمُوا ہَذِہِ بِالْحِصَصِ ، قَالَ فَفَعَلُوا وَہُوَ یَقُولُ : یَا صَفْرَائُ یَا بَیْضَائُ غُرِّی غَیْرِی ، قَالَ : وَجَعَلَ یَقُولُ :
ہَذَا جَنَایَ وَخِیَارُہُ فِیہِ إذْ کُلُّ جَانٍ یَدُہُ إِلَی فِیہِ۔
قالَ : فِی بَیْتِ الْمَالِ مَسَال وَإِبَرٌ ، وَکَانَ یَأْخُذُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ خَرَاجَہُمْ مِنْ عَمَلِ أَیْدِیہِمْ ، قَالَ : وَقَالَ لِلْعُرَفَائِ: اقْسِمُوا ہَذَا ، قَالُوا : لاَ حَاجَۃَ لَنَا فِیہِ ، قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لنَقْسِمُنَّہُ خَیْرَہُ مَعَ شَرِّہِ۔
(٣٣٥٧١) حضرت عنترہ (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد قنبر کے دوست تھے۔ وہ فرماتے ہیں میں قنبر کے ساتھ حضرت علی (رض) کے پاس گیا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! اُٹھیئے ! میرے ساتھ چلیے۔ تحقیق میں نے آپ (رض) کے لیے کچھ مال پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ آپ (رض) اس کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے۔ تو وہاں ایک ٹوکری سونے اور چاندی سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک آپ (رض) کوئی چیز نہیں چھوڑتے مگر یہ کہ اس کو تقسیم کردیتے ہیں یا اس کو خرچ کردیتے ہیں۔ اس پر آپ (رض) نے اپنی تلوار سونت لی۔ اور فرمایا : ہلاکت ہو۔ تو چاہتا ہے کہ تو میرے گھر میں اتنی بڑی آگ داخل کر دے ! پھر آپ (رض) نے بےدھیانی میں اپنی تلوار سیدھی کی اور اس ٹوکری پر ماری تو اس کا آدھا اور ایک تہائی کٹے ہوئے برتن کے درمیان بکھر گیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : نگرانوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ لوگ آگئے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس مال کو حصوں میں تقسیم کرو۔ انھوں نے ایسا کردیا اور آپ (رض) یوں کہہ رہے تھے : اے سونا چاندی ! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا میں ڈالنا۔ اور آپ (رض) یہ شعر بھی پڑھ رہے تھے۔
ہَذَا جَنَایَ وَخِیَارُہُ فِیہِ إذْ کُلُّ جَانٍ یَدُہُ إِلَی فِیہِ ۔
راوی کہتے ہیں : بیت المال میں چھوٹی اور بڑی سوئیاں تھیں۔ جو آپ (رض) لوگوں سے بطور خراج کے وصول کرتے تھے ان کے ہاتھوں کی محنت کے بقدر، آپ (رض) نے نگرانوں سے کہا : ان کو تقسیم کرلو۔ انھوں نے کہا : ہمیں اس کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ ہم ضرور تقسیم کریں گے اس مال کو اس کی برائی کے ساتھ ہی۔