(۳۳۵۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ الَّذِی کَانَ یَخْدُمُ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَتْ : یَا أَبَا صَالِحٍ ، کَیْفَ لَوْ رَأَیْت أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَأُتِیَ بِأُتْرُجٍّ ، فَذَہَبَ حَسَنُ أَوْ حُسَیْنُ یَتَنَاوَلُ مِنْہُ أُتْرُجَّۃً ، فَانْتَزَعَہَا مِنْ یَدِہِ ، وَأَمَرَ بِہِ فَقَسَمَ بَیْنَ النَّاسِ۔
(٣٣٥٧٣) حضرت ابو صالح (رض) جو حضرت ام کلثوم بنت علی (رض) کی خدمت کیا کرتے تھے فرماتے ہیں کہ حضرت ام کلثوم (رض) نے ارشاد فرمایا : اے ابو صالح ! تیرا کیا حال ہوتا اگر تو امیر المؤمنین کو دیکھ لیتا اس حال میں کہ ان کے پاس مالٹے لائے گئے اتنے میں حضرت حسن (رض) یا حضرت حسین (رض) گئے اور ان میں سے ایک مالٹا لے لیا۔ تو آپ (رض) نے ان کے ہاتھ سے وہ مالٹا چھین لیا۔ اور آپ (رض) نے حکم دیا اور ان مالٹوں کو فوراً لوگوں میں تقسیم کردیا گیا ؟ !